نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام، خطے کی صورتحال اور امریکی فوجی کارروائیوں پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ انہوں نے مڈٹرم انتخابات کے بعد تہران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی امید بھی ظاہر کی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران بیلسٹک میزائلوں کی آڑ میں ایٹمی ہتھیار تیار کرنا چاہتا تھا، تاہم ان کے اقدامات کے نتیجے میں ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے ایرانی جوہری پروگرام کو پہاڑوں کے نیچے دفن کردیا۔
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے صدارت سنبھالنے کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی، تاہم ایرانی حکام نے ابتدائی پیشکش قبول نہیں کی، جس کے بعد امریکا نے آپریشن ’’مڈ نائٹ ہیمر‘‘ کیا۔ انہوں نے ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت کئی دہائیوں سے خطے میں قتل و غارت اور دہشت گردی پھیلاتی رہی ہے۔
امریکی صدر نے ایران کی معاشی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ملک میں مہنگائی انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر پابندیوں کے معاملے میں امریکا کو عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے حوالے سے اب انہیں ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے کہ مزید کارروائی کی جائے یا معاہدہ کیا جائے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ امریکی نیوی نے محفوظ راستے کو یقینی بنایا ہے اور آبنائے سے تیل کی ترسیل جاری ہے۔ انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال کو انتہائی کشیدہ قرار دیا۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے ذریعے بہت سی جانیں بچائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کو محفوظ بنانے کیلئے متعدد ممالک کا اکٹھا ہونا عالمی یکجہتی کی علامت ہے۔
ٹرمپ نے روس اور یوکرین جنگ کا بھی ذکر کیا اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر زور دیا کہ جنگ ختم کی جائے۔ امریکی صدر نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو عالمی تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔
جنرل اسمبلی سے خطاب میں ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے کا کریڈٹ بھی لیا اور وزیراعظم شہباز شریف کا ذکر کرتے ہوئے انہیں سراہا۔ انہوں نے امریکی معیشت، بیرونی سرمایہ کاری، روزگار اور ملکی سلامتی کے حوالے سے بھی اپنی انتظامیہ کی کارکردگی کو نمایاں کیا۔