Get Alerts

روسی صدر پیوٹن اور یوکرینی صدر زیلنسکی کی ملاقات کے امکانات یکسر مسترد، سفارتی کشیدگی میں اضافہ

روسی صدر پیوٹن اور یوکرینی صدر زیلنسکی کی ملاقات کے امکانات یکسر مسترد، سفارتی کشیدگی میں اضافہ

روس:روس نے ولادیمیر پیوٹن اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے مابین فوری ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی ثالثی کی کوششیں بھی اب تک کسی پیش رفت کے بغیر تعطل کا شکار نظر آ رہی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ پیوٹن اور زیلنسکی کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب نیٹو کے سربراہ مارک روٹے یوکرین کے لیے سیکیورٹی گارنٹی کے موضوع پر بات چیت کے لیے کیف میں موجود تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کے آغاز میں دعویٰ کیا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے ملاقات پر اتفاق کیا ہے، لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ "ان دونوں کی بات نہیں بنتی"، اور انہیں ایک دوسرے کے لیے "تیل اور سرکہ" قرار دیا۔

سرگئی لاوروف نے این بی سی کے پروگرام میں کہا کہ کوئی ملاقات فی الحال متعین نہیں، اگرچہ پیوٹن زیلنسکی سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، مگر "ایجنڈا بالکل تیار نہیں" ہے۔ انہوں نے یوکرینی صدر کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کرملن کے سخت موقف کو دہرایا۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے کیف میں روٹے کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ یوکرین نے روس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا، اور صرف امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ سفارتی راستے پر بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ روس ملاقات سے گریزاں ہے اور اپنی جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔

یوکرین کے مستقبل کی سیکیورٹی ضمانتیں امریکی قیادت کی سفارتی کوششوں کا مرکزی موضوع ہیں، جس کا مقصد اس طویل عرصے سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس نے کیف کے لیے کچھ مغربی سیکیورٹی ضمانتوں پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم ماسکو نے اس کی تردید کی ہے۔ سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس کے بغیر اس قسم کی بات چیت "خیالی بات" ہے اور یہ "بند گلی" ہے۔

روس کی جانب سے نیٹو رکنیت نہ دینے اور علاقائی مسائل پر بات چیت کے اصول پر بھی زور دیا گیا، جسے یوکرینی صدر نے مسترد کیا ہے۔

یہ یاد رہے کہ 1994 میں دستخط شدہ بڈاپسٹ میمورنڈم کے تحت روس نے یوکرین، بیلاروس، اور قازقستان کی سیکیورٹی کی ضمانت دی تھی، بشرطیکہ یہ ممالک اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائیں۔ لیکن روس نے 2014 میں کریمیا پر قبضہ کیا اور 2022 میں بڑے پیمانے پر حملہ کر کے عالمی امن کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے لاکھوں افراد بے گھر اور ہزاروں ہلاک ہو چکے ہیں۔

ٹیگز: