Get Alerts

اینڈرائیڈ صارفین کیلئے گوگل کال ایپ میں بڑی تبدیلی: انٹرفیس اچانک تبدیل، سوشل میڈیا پر تشویش

اینڈرائیڈ صارفین کیلئے گوگل کال ایپ میں بڑی تبدیلی: انٹرفیس اچانک تبدیل، سوشل میڈیا پر تشویش

اسلام آباد:پاکستان سمیت بھارت کے لاکھوں اینڈرائیڈ صارفین نے حالیہ دنوں میں اپنے اسمارٹ فونز کی کال سیٹنگز اور انٹرفیس میں اچانک تبدیلی محسوس کی ہے، جس کے بعد متعدد صارفین نے سوشل میڈیا پر تشویش کا اظہار کیا اور بعض نے اسے ممکنہ ہیکنگ قرار دے دیا۔

صارفین کے مطابق، کال کرتے یا کال موصول ہونے پر فون کا انٹرفیس مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ جہاں پہلے کال ایپ میں "ریسنٹ"، "فیورٹس" اور "کی پیڈ" کی الگ الگ آپشنز موجود تھیں، اب وہ تمام آپشنز ختم کر کے صرف دو ٹیبز "ہوم" اور "کی پیڈ" رہ گئے ہیں۔


اس اچانک تبدیلی پر کئی صارفین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی وارننگ یا نوٹیفکیشن کے انٹرفیس کا تبدیل ہو جانا کسی ہیک یا وائرس کی علامت ہو سکتا ہے۔ تاہم برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ تبدیلی گوگل کی جانب سے کی گئی ایک باقاعدہ سافٹ ویئر اپڈیٹ کا نتیجہ ہے۔


گوگل نے رواں سال مئی میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی اینڈرائیڈ ایپس میں "مٹیریل تھری ایکسپریسیو" (Material 3 Expressive) نامی ایک بڑے ڈیزائن اپڈیٹ پر کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد ایپس کے انٹرفیس کو مزید سادہ، تیز، اور صارف دوست بنانا ہے۔

یہی اپڈیٹ اب دنیا بھر میں آہستہ آہستہ متعارف کرائی جا رہی ہے، جس کے تحت گوگل کی فون ایپ میں بھی بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اب "ریسنٹ" اور "فیورٹس" کی آپشنز کو ہٹا کر ایک ہی "ہوم" ٹیب میں شامل کر دیا گیا ہے تاکہ صارفین کو سادہ اور یکساں تجربہ فراہم کیا جا سکے۔


گوگل کے مطابق اس اپڈیٹ کے تحت نہ صرف کال ایپ بلکہ دیگر سسٹم ایپس جیسے نوٹیفکیشنز، کلر تھیمز، جی میل، فوٹوز، اور واچ ایپ کے انٹرفیس میں بھی تبدیلیاں کی جائیں گی۔


ماہرین کے مطابق، اس تبدیلی کا ہیکنگ یا کسی سیکیورٹی خطرے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک مکمل طور پر محفوظ، گوگل کی جانب سے جاری کردہ اپڈیٹ ہے، جو خود بخود فونز میں شامل ہو رہی ہے۔


اگر کسی صارف کو نیا انٹرفیس پسند نہ آئے تو وہ گوگل کو فیڈبیک دے سکتے ہیں یا متبادل کال ایپلیکیشنز جیسے Truecaller یا Simple Dialer کا استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق، اس تبدیلی کا مقصد مجموعی صارف تجربے کو بہتر بنانا ہے۔

ٹیگز: