چین میں تیار کیے گئے ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر دوڑ میں سابق عالمی چیمپئن یوسین بولٹ کے ریکارڈ سے بہتر وقت ریکارڈ کرکے ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی توجہ حاصل کرلی۔
چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک چینی کمپنی کے تیار کردہ ہیومنائیڈ روبوٹ ’لائٹننگ‘ نے 100 میٹر کا فاصلہ صرف 9.32 سیکنڈ میں مکمل کیا۔ اس طرح روبوٹ کا ریکارڈ یوسین بولٹ کے 9.58 سیکنڈ کے عالمی ریکارڈ سے کم وقت کا رہا۔
یہ کارکردگی دوسرے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کی تیاری کے سلسلے میں منعقد ہونے والے ایک مقابلے کے دوران سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق روبوٹ نے دوڑ کے دوران زیادہ سے زیادہ 14.5 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار حاصل کی۔
جمیکا کے عظیم ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے 2009 میں 100 میٹر کی دوڑ 9.58 سیکنڈ میں مکمل کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ ان کی اس دوڑ کی اوسط رفتار تقریباً 10.44 میٹر فی سیکنڈ بنتی ہے۔
روبوٹ کی جانب سے ریکارڈ کیے گئے وقت نے جدید روبوٹکس کی تیز رفتار ترقی کو نمایاں کیا ہے اور انسانوں کی جسمانی کارکردگی کے مقابلے میں روبوٹس کی صلاحیتوں پر ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔
تاہم روبوٹ اور انسانی ایتھلیٹ کے درمیان اس طرح کا موازنہ براہِ راست عالمی ایتھلیٹکس ریکارڈ کے برابر نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ دونوں کی دوڑ کے حالات اور قواعد مختلف ہوسکتے ہیں۔