کیلیفورنیا : ماہرینِ فلکیات نے ناسا کی جیمز ویب سپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ایک نیا اور انتہائی عجیب سیارہ دریافت کیا ہے، جس کی شکل لیموں سے مشابہ ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ سیارہ اتنا منفرد ہے کہ وہ ستاروں اور سیاروں کے درمیان موجود روایتی فرق کو دھندلا کر سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف شکاگو کے سائنس دانوں نے اس سیارے کا نام PSR J2322-2650b رکھا ہے۔ اس سیارے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے مرکزی ستارے سے صرف 10 لاکھ میل کے فاصلے پر گھوم رہا ہے، جو کہ زمین اور سورج کے درمیان فاصلے کا تقریباً 100 گنا کم ہے۔ اس کا ایک سال صرف 7.8 گھنٹے کا ہوتا ہے، یعنی یہ سیارہ بہت تیز رفتار سے اپنے مدار میں گھوم رہا ہے۔
اس سیارے کا مرکزی ستارہ ایک پلسر ہے، جو کہ ایک نیوٹرون ستارہ ہے جو تیز رفتار چکر لگاتا ہے اور اس کی شدید کششِ ثقل کی وجہ سے سیارے کی شکل بیضوی (لیموں کی شکل) ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق PSR J2322-2650b کا ایٹموسفئیر بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ اس میں ہیلیئم اور کاربن کی بھاری مقدار موجود ہے، جس کے باعث وہاں بہت تیز ہوائیں چل رہی ہیں۔ اس سیارے کی یہ خصوصیات اسے نہ صرف منفرد بناتی ہیں بلکہ یہ سیاروں اور ستاروں کے درمیان روایتی فرق کو بھی چیلنج کرتی ہیں، کیونکہ اس کی ساخت اور خصوصیات دونوں ہی اس کی پوزیشن کو غیر روایتی بنا دیتی ہیں۔