اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر حکومت اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہتی تو ہمیں عدلیہ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 26ویں آئینی ترمیم پیش کی گئی، جو ابتدائی طور پر قابل قبول نہیں تھی۔ ان کے مطابق، اس ترمیم پر ان کی جماعت سے توثیق کا تقاضہ کیا جا رہا تھا، جبکہ ترمیم کے تحت اس پر عملدرآمد یکم جنوری 2028 سے ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ جب ترمیم کا مسودہ ملا تو ایک ماہ کے اندر 35 نکات سے دستبرداری حاصل کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے اسلامی نظریاتی کونسل صرف سفارشات پیش کرتی تھی، لیکن اب ان سفارشات پر کمیٹی میں باقاعدہ بحث ہو گی۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو ہمیں عدالتی راستہ اپنانا ہو گا، اور اگر ہم عدالت گئے تو حکومت کے لیے مشکل ہو جائے گا۔
انہوں نے بلوچستان میں دہرے قتل کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں قانون سازی اسلامی اقدار کے مطابق ہونی چاہیے۔
پاک بھارت جنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو صرف چار گھنٹوں میں شکست دی تھی، جبکہ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا، مگر پاکستان کا ریاستی مؤقف ہمیشہ واضح اور غیر مبہم رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اسرائیل فلسطین تنازع پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو کسی متنازعہ علاقے میں سفارتخانہ کھولنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ان کے مطابق، اسرائیل نے جن علاقوں پر قبضہ کیا ہے وہ اس کی ملکیت نہیں ہیں، اور اسرائیل و فلسطین روزِ اول سے حالت جنگ میں ہیں۔