اسلام آباد:ملک میں حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی رفتار میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی کی شرح 0.29 فیصد کم ہوکر سالانہ بنیادوں پر 1.35 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ شرح 29.1 فیصد تھی، جس کے مقابلے میں یہ نمایاں کمی ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ہفتے 13 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 14 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ 24 اشیاء کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق، ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ 12.01 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ انڈے 8.16 فیصد، گڑ 1.50 فیصد، کیلے 1 فیصد، دال مونگ 0.79 فیصد، آٹا 0.63 فیصد، دال چنا 0.39 فیصد، دال ماش 0.30 فیصد، خشک دودھ 0.36 فیصد، مٹن 0.26 فیصد، بیف 0.12 فیصد اور باسمتی ٹوٹا چاول 0.34 فیصد مہنگے ہوئے۔
دوسری جانب، چکن کی قیمت میں 7.26 فیصد، پیاز میں 5.43 فیصد، لہسن 2.71 فیصد، ایل پی جی 2.44 فیصد، آلو 0.95 فیصد، دال مسور 0.46 فیصد، ویجیٹیبل گھی اور چینی 0.05 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق، مہنگائی کا مختلف آمدنی والے طبقوں پر مختلف اثر رہا۔ 17,732 روپے ماہانہ تک آمدنی والے افراد کے لیے مہنگائی کی شرح 0.54 فیصد رہی۔ 17,733 سے 22,888 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 0.03 فیصد۔ 22,889 سے 29,517 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے 1.08 فیصد۔ 29,518 سے 44,175 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے 1.92 فیصد۔ 44,176 روپے سے زائد آمدنی والے افراد کے لیے مہنگائی کی شرح 2.35 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
مہنگائی کی سالانہ شرح میں نمایاں کمی عوام کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے، تاہم کچھ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے عام صارف کو متاثر ضرور کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، مستقبل میں قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے حکومت کو سپلائی چین اور مارکیٹ ریگولیشن پر توجہ دینا ہوگی۔