Get Alerts

چینی خلائی سٹیشن کے باہر نئی قسم کا بیکٹیریا دریافت، کیا انسانیت کو خلائی خطرہ درپیش ہے؟

چینی خلائی سٹیشن کے باہر نئی قسم کا بیکٹیریا دریافت، کیا انسانیت کو خلائی خطرہ درپیش ہے؟

بیجنگ:چین کے تیانگونگ خلائی سٹیشن پر سائنس دانوں نے ایک نئی قسم کے بیکٹیریا کی شناخت کی ہے، جو خلا کے سخت ترین ماحول میں نہ صرف زندہ رہنے بلکہ تیزی سے ارتقا پذیر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس دریافت نے مستقبل کے خلائی مشنوں اور خلانوردوں کی صحت کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
اس بیکٹیریا کو Niallia tiangongensis کا نام دیا گیا ہے، اور یہ 2023 میں عملے کے ساتھ خلا میں جانے والے شینزو-15 مشن کے دوران جمع کیا گیا تھا۔ تحقیق کے مطابق، یہ بیکٹیریا کم زمین کے مدار (Low Earth Orbit) کے سخت حالات، تابکاری، خلا کا دباؤ، اور الٹرا وائلٹ شعاعوں کو برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بیکٹیریا حفاظتی تہہ (بایو فلم) بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اسے نہ صرف خلا کے خطرناک ماحول سے بچاتی ہے بلکہ جراثیم کش ادویات اور صفائی کے روایتی طریقوں سے بھی محفوظ رکھتی ہے، جس سے یہ خلا میں موجود ایک ضدی اور خطرناک وجود بن چکا ہے۔     ڈاکٹر چن لییو، مائیکرو بایولوجسٹ، چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (CNSA   کا  کہنا ہے کہ  ہم ایک ایسے بیکٹیریا کو دیکھ رہے ہیں جو ایسے ماحول میں پھل پھول رہا ہے جو زمین پر زندگی کے لیے بالکل اجنبی ہے،
اگرچہ اس وقت تک Niallia tiangongensis نے خلانوردوں پر کوئی براہِ راست منفی اثر نہیں ڈالا، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کی تیزی سے ارتقا کی صلاحیت غیر متوقع نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ خاص طور پر جب مستقبل میں انسانی مشن چاند اور مریخ کی طرف جائیں گے، تو ایسے مائیکروبس انسانی صحت اور خلائی جہازوں کے نظام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ مائیکروب وقت کے ساتھ ایسی شکل اختیار کر سکتا ہے جو متعدی یا تباہ کن ہو، اور خلائی مشنوں کی کامیابی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
سائنس دان اس بیکٹیریا کا جینوم سیکوئنس کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ کس رفتار سے ارتقا پذیر ہو رہا ہے اور کن ممکنہ خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مائیکروبس کی مسلسل نگرانی اور ان کے خلاف مؤثر احتیاطی تدابیر اب ناگزیر ہو چکی ہیں۔
اس دریافت نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ خلا میں جانے والے دیگر جراثیم بھی اسی طرح تبدیل ہو رہے ہوں گے  اور آنے والے وقت میں یہ خلائی سائنس دانوں اور مشن ٹیموں کے لیے ایک نادیدہ دشمن ثابت ہو سکتے ہیں۔جوں جوں انسان خلا میں قدم بڑھا رہا ہے، سوال یہ نہیں رہا کہ "کیا مائیکروب بدلیں گے؟" بلکہ یہ ہے کہ "وہ کہاں تک بدل سکتے ہیں؟۔

ٹیگز: