Get Alerts

برطانیہ میں پاکستانی شہری پناہ کے متلاشیوں میں سرفہرست، 17 فیصد اضافہ ریکارڈ

برطانیہ میں پاکستانی شہری پناہ کے متلاشیوں میں سرفہرست، 17 فیصد اضافہ ریکارڈ

لندن :برطانیہ میں پاکستانی شہری اب پناہ کی درخواستیں دینے والی سب سے بڑی قوم بن چکے ہیں۔ برطانوی وزارت داخلہ (ہوم آفس) کی جانب سے جاری کردہ سالانہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 تک ختم ہونے والے 12 ماہ کے دوران 11,048 پاکستانیوں نے برطانیہ میں پناہ کے لیے درخواست دی، جو کل درخواست دہندگان کا 10.1 فیصد ہے۔

یہ شرح 2023-24 کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے، جب 7,003 پاکستانیوں نے پناہ کی درخواستیں دی تھیں اور پاکستان تیسری بڑی قومیت کے طور پر سامنے آیا تھا۔ہوم آفس کے مطابق، مارچ 2025 تک کے ایک سال میں پناہ کی مجموعی درخواستوں کی تعداد 1,09,343 رہی، جو 2001 میں موجودہ ریکارڈ سسٹم کے آغاز کے بعد سے کسی بھی 12 ماہ کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

گزشتہ ریکارڈ 108,138 درخواستوں کے ساتھ دسمبر 2024 میں قائم ہوا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کو پناہ گزینوں کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے۔پاکستان کے بعد افغان شہری دوسرے نمبر پر رہے، جنہوں نے 8,069 درخواستیں دیں (7.4 فیصد)، جو کہ گزشتہ سال کی نسبت کم ہیں۔تیسرے نمبر پر شامی شہری تھے، جن کی درخواستوں کی تعداد 6,175 رہی — یہ 2023-24 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، وہ افراد جو غیر قانونی طور پر چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ پہنچے، وہ کل پناہ گزین درخواست دہندگان کا 33 فیصد تھے۔

ابتدائی فیصلے کے منتظر درخواست دہندگان کی تعداد مارچ 2025 کے اختتام پر 1,09,536 رہی، جو دسمبر 2024 کے مقابلے میں 12 فیصد کم ہے۔
اسی طرح چھ ماہ سے زائد عرصے سے فیصلے کے منتظر کیسز کی تعداد 67,373 ہے، جو جون 2023 کے عروج (1,39,961) کے مقابلے میں نمایاں کمی ظاہر کرتی ہے۔جنوری تا مارچ 2025 کے دوران برطانیہ نے 2,312 افراد کو زبردستی ملک بدر کیا۔ یہ تعداد اکتوبر تا دسمبر 2024 میں 2,365 تھی۔ دونوں اعداد و شمار 2018 کے بعد کسی بھی سہ ماہی میں سب سے زیادہ ہیں۔

برطانوی وزیر داخلہ یویٹ کوپر نے بیان میں کہا  "ہم نے امیگریشن قوانین کے نفاذ میں نمایاں بہتری لائی ہے اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ    "امیگریشن وائٹ پیپر اصلاحات کے تحت ہم قوانین کو مزید سخت بنا رہے ہیں تاکہ غیر ملکی مجرموں اور مسترد شدہ پناہ گزینوں کو جلد از جلد واپس بھیجا جا سکے۔"

ٹیگز: