Get Alerts

پاکستان کے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کو مداحوں سے بچھڑے 42 برس بیت گئے

پاکستان کے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کو مداحوں سے بچھڑے 42 برس بیت گئے

لاہور : پاکستان فلم انڈسٹری کے لازوال اداکار اور چاکلیٹی ہیرو، وحید مراد کو مداحوں سے بچھڑے ہوئے 42 برس بیت چکے ہیں۔ 2 اکتوبر 1938ء کو کراچی میں پیدا ہونے والے وحید مراد نے اپنی تعلیم جامعہ کراچی سے حاصل کی جہاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی۔

وحید مراد نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1962 میں فلم "اولاد" سے معاون اداکار کے طور پر کیا۔ لیکن بطور ہیرو ان کی پہلی فلم "ہیرا اور پتھر" تھی، جو کامیاب ہوئی اور اسی فلم نے انہیں "چاکلیٹی ہیرو" کے لقب سے نوازا۔ اس کے بعد 1966 میں آئی ان کی فلم "ارمان" نے باکس آفس پر تمام ریکارڈ توڑ ڈالے اور وحید مراد کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

وحید مراد نے اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی اور پشتو فلموں میں بھی کام کیا اور مجموعی طور پر 125 سے زائد فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کی مشہور فلموں میں "دل میرا دھڑکن تیری"، "ہیرا اور پتھر"، "ارمان"، "عندلیب"، "مستانہ ماہی"، "دیور بھابھی" اور "نصیب اپنا اپنا" شامل ہیں، جنہوں نے مختلف کامیابیاں حاصل کیں۔

وہ پاکستان کے واحد اداکار تھے جن کی فلموں نے سب سے زیادہ پلاٹینم، ڈائمنڈ، گولڈن اور سلور جوبلیاں منائیں۔ وحید مراد نہ صرف اداکار بلکہ ایک مصنف اور پروڈیوسر بھی تھے، اور انہوں نے اپنی فلموں کی تخلیق میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی ایوارڈز سے نوازا گیا، جن میں نگار ایوارڈ، گریجویٹ ایوارڈ اور نیشنل ایوارڈ شامل ہیں۔

وحید مراد کے منفرد بالوں کے اسٹائل اور ملبوسات کی نقل بھی کی جاتی تھی، اور ان کا ذاتی اسٹائل آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

وحید مراد 23 نومبر 1983ء کو کراچی میں انتقال کر گئے، لیکن ان کی تخلیقات اور اداکاری آج بھی پاکستان فلم انڈسٹری کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ 2011 میں حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بعد از مرگ "ستارہ امتیاز" سے نوازا۔ ان کی یادیں اور فلمیں ہمیشہ پاکستان کے فلمی تاریخ میں زندہ رہیں گی۔

ٹیگز: