راولپنڈی: پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پروٹیز نے 8 وکٹوں سے فتح حاصل کر کے سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں ہی اس میچ میں ناکام رہی، جس کے باعث جنوبی افریقہ نے پاکستان کو شکست دے کر اس کی برتری ختم کر دی۔
پاکستانی ٹیم نے اپنی دوسری اننگز میں صرف 138 رنز بنائے اور پروٹیز کو جیت کے لیے 68 رنز کا ہدف دیا، جو جنوبی افریقا نے 2 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ پاکستان کے بابر اعظم نے 50 رنز بنائے، لیکن ان کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی زیادہ دیر تک کریز پر نہ ٹھہر سکا۔ محمد رضوان، نعمان علی اور شاہین آفریدی جیسے اہم کھلاڑی بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس لوٹ گئے۔
جنوبی افریقا کی جانب سے سپنر کیشو مہاراج نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 7 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستانی بیٹرز کو گھما دیا۔ اس کے علاوہ، سمن ہارمر نے 6 وکٹیں لے کر پاکستان کی بیٹنگ لائن کو مکمل طور پر دبا لیا۔
آصف آفریدی نے پاکستان کی جانب سے اپنی ڈیبیو اننگز میں شاندار باؤلنگ کی، اور 6 وکٹیں حاصل کر کے جنوبی افریقی بیٹرز کو مشکل میں ڈالا، تاہم اس کی محنت بھی پاکستان کی شکست کو نہ روک سکی۔
دوسری طرف، جنوبی افریقا نے اپنی پہلی اننگز میں قیمتی رنز بنائے، اور آخر میں ٹیل اینڈرز کی شاندار بیٹنگ کی بدولت ٹیم نے 404 رنز تک پہنچا کر پاکستان پر 71 رنز کی برتری حاصل کی۔ کگیسو ربادا نے 71 رنز کی اہم اننگز کھیلی، جبکہ میتھو سامی 89 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
پاکستان کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا، لیکن اوپنرز امام الحق اور عبداللہ شفیق جلد آؤٹ ہو گئے۔ بعد ازاں، بابر اعظم اور دیگر کھلاڑیوں کی ناکامی کے باعث پاکستان کا اسٹرائیک کرنا مشکل ہو گیا۔
یہ میچ پاکستان کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہوا ہے، اور اب دونوں ٹیمیں سیریز میں برابر ہیں۔ پاکستانی ٹیم کو اپنی بیٹنگ اور باؤلنگ میں بڑی اصلاحات کی ضرورت ہے، تاکہ اگلے میچ میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔