لاہور: پی ڈی ایم کی حکومت گراؤ تحریک میں حکومت کے خاتمے کی نئی تاریخ سامنے آگئی۔ دسمبر سے جنوری پھر فروری سے مارچ، اور اب اپریل میں حکومت گرانے کا دعویٰ کر دیا گیا ہے۔
تفصیل کے مطابق اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے حکومت گراؤ مشن کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے جا رہا ہے۔ حکومت مخالف ملک گیر ریلیوں کا شیڈول نیو نیوز نے حاصل کر لیا ہے۔ 27 دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی برسی پر لاڑکانہ میں جلسہ تیس دسمبر کو بہاولپور ریلی نکالی جائے گی۔
شیڈول کے مطابق 6 جنوری کو بنوں، 9 جنوری کو سیالکوٹ، 11 جنوری کو مالاکنڈ، 13 جنوری کو لورالائی بلوچستان میں ریلی نکالی جائے گی۔ پی ڈی ایم 16 جنوری کو تھرپارکر سندھ کارخ کرے گی۔ 18 جنوری کو خضدار بلوچستان، 23 جنوری کو سرگودھا جبکہ دوسرے مرحلے کی آخری احتجاج ریلی 27 جنوری کو فیصل آباد میں ہوگی۔
پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں استعفوں کے حوالے سے فیصلہ ہوگا۔ تاہم پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اپنے تمام اراکین اسمبلیوں سے استعفے لے کر اپنے پاس رکھ لئے ہیں جنھیں وقت آنے پر آخری آپشن کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
گزشتہ روز مردان میں مہنگائی مارچ سے خطاب میں مریم نواز نے وزیراعظم پر تنقیدی نشتر چلاتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نے خود اپنی نالائقی کا اعتراف کیا کر لیا ہے۔ آج ان کی وجہ سے پاکستان کے 22 کروڑ عوام دربدر ہیں جبکہ کابینہ اراکین آپس میں میوزیکل چیئر کھیل رہے ہیں۔ غریب کے مکانات اور دکانیں تو گرا دی گئیں لیکن بنی گالا 12 لاکھ دے کر قانونی کر دیا گیا۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مرادن جلسے سے خطاب میں حکومت کیخلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان! ہم آپ کو کہاں بھیجیں گے۔ آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ عوام کا سمندر اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کا خاتمہ کرکے ہی دم لیں گے۔ جسے اعدادوشمار کا نہیں پتا، اسے کرسی پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ مہنگائی عروج پر ہے، عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں جس ملک کی معیشت بیٹھ جاتی ہے، وہ اپنا تحفظ نہیں کر سکتا۔