Get Alerts

تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے فیصلہ 4 جنوری کے اجلاس میں ہو گا، شفقت محمود

تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے فیصلہ 4 جنوری کے اجلاس میں ہو گا، شفقت محمود
کیپشن: تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے فیصلہ 4 جنوری کے اجلاس میں ہو گا، شفقت محمود
سورس: فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم شفت محمود نے کہا کہ چار جنوری کو ہونے والے اجلاس میں تعلیمی اداروں کو کھولنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا بین الصوبائی وزرا کی ہونے والی میٹنگ میں حالات کا جائزہ لیا جائے گا اور تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق فیصلہ ہو گا۔ پی ڈی ایم کی تحریک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا یہ تحریک اندرونی طور پر اختلافات کا شکار ہو گئی ہے اور جی یو آئی کے اندرونی مسائل بھی شروع ہو گئے ہیں۔ 

ادھر صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے عندیہ دیا ہے کہ ملک بھر میں عالمی وبا کی صورتحال میں کمی نہیں آ رہی، اس لئے ہو سکتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش جنوری میں بھی جاری رہے۔ سعید غنی کے حالیہ بیان سے نجی سکول مالکان میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

سعید غنی کا نجی ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہنا تھا کہ عالمی وبا میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آ رہی۔ مجھے نہیں لگتا کہ 11 جنوری سے قبل سکول کھل سکیں گے۔ وفاقی حکومت کو نجی سکولوں سے بات کرنا چاہیے۔ نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں تجویز دی تھی کہ سکولوں کو قرض دیا جائے تاکہ وہ چلتے رہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سال کوئی طالب علم بغیر امتحان پاس نہیں ہوگا۔

اس موقع پر نجی ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ یورپ میں ہر جگہ تعلیمی ادارے کھلے ہوئے ہیں۔ انگلینڈ میں عالمی وبا کی دوسری لہر کی وجہ سکولوں کی وجہ سے نہیں پھیلی۔

خیال رہے کہ این سی او سی میٹنگ میں گزشتہ دنوں تجویز دی گئی تھی کہ اسکولوں کو قرض دیا جائے تاکہ یہ چلتے رہیں اور وفاقی حکومت کو نجی اسکولوں سے بات کرنی چاہیے۔ 

واضح رہے کہ پاکستان میں عالمی وبا کی دوسری لہر کے آنے کے بعد حکومت کی جانب سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے 26 نومبر سے بند کر دیئے تھے اور گیارہ جنوری کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ۔