Get Alerts

مودی سرکار کے لیے بڑی سبکی: حاضر سروس بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار منشیات کی عالمی سمگلنگ میں ملوث نکلے

مودی سرکار کے لیے بڑی سبکی: حاضر سروس بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار منشیات کی عالمی سمگلنگ میں ملوث نکلے

فریدکوٹ/نئی دہلی : بھارتی فوج کے وقار کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب پنجاب کے علاقے فریدکوٹ میں ایک حاضر سروس فوجی اہلکار اور سابق پولیس افسر کو منشیات کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے ساتھ رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ گروہ مودی انتظامیہ کے دور میں ریاستی اثر و رسوخ کو منشیات کی اسمگلنگ کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔
بھارتی جریدے "دی ہندو" کی رپورٹ کے مطابق فریدکوٹ پولیس نے دو ماہ کی طویل نگرانی اور خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے 6 ملزمان کو حراست میں لیا۔گرفتار ہونے والوں میں حاضر سروس بھارتی فوجی جرنیل سنگھ (عرف گولڈی) اور برطرف پولیس اہلکار امر دیپ سنگھ (عرف باکسر) شامل ہیں۔تحقیقات میں یہ لرزہ خیز انکشاف ہوا کہ ملزمان ٹول پلازوں اور پولیس ناکوں سے بغیر کسی رکاوٹ کے گزرنے کے لیے اپنے سرکاری شناختی کارڈز کا استعمال کرتے تھے۔
 پولیس کے مطابق ملزمان سرحد پار سے ڈرون کے ذریعے پھینکی گئی منشیات وصول کرتے تھے، جس کی تصدیق ہیروئن کے پیکٹوں پر لگے مخصوص "ہکس" سے ہوئی ہے۔ ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 4.8 کلو گرام اعلیٰ معیار کی ہیروئن، ایک غیر قانونی پستول، نقدی اور دو قیمتی گاڑیاں (تھار اور XUV) برآمد کی گئی ہیں۔سکینڈل سامنے آنے کے بعد مودی حکومت پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے حاضر سروس اہلکار کس طرح اتنی آسانی سے جرائم پیشہ گروہوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، حاضر سروس فوجی کا اس طرح منظم نیٹ ورک کا حصہ ہونا بھارتی فوج کے ڈسپلن اور اخلاقی معیار پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

ٹیگز: