راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کو راولپنڈی پولیس نے چند گھنٹوں کے لیے حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا۔
راجہ بشارت اپنے وکیل سردار عبدالرزاق ایڈووکیٹ کے ہمراہ الیکشن ٹریبونل میں این اے 55 کے مقدمے کی سماعت کے لیے پیش ہوئے تھے۔ عدالت سے باہر نکلنے پر پولیس نے ان کی گاڑی کو روک کر انہیں تھانہ نیوٹاؤن منتقل کر دیا۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ وہ تمام مقدمات میں ضمانت پر ہیں اور ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے نہ پہلے گھبرائے، نہ اب گھبرائیں گے۔ ان کے وکیل سردار عبدالرزاق نے بتایا کہ پولیس کو تمام ضمانتی دستاویزات دکھائی گئیں، اس کے باوجود گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
کچھ دیر بعد پولیس نے ضمانتی کاغذات کی تصدیق کے بعد راجہ بشارت کو رہا کر دیا۔ سردار عبدالرزاق ایڈووکیٹ نے رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ راجہ بشارت کی گرفتاری بلاجواز تھی۔
واقعے پر پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے، اور اسے سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔