اسلام آباد: پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک ہنگامی اور اعلیٰ سطح کے اجلاس میں عسکری و سول قیادت نے شرکت کی، جس میں پاکستان کو "مرکزی ثالث" کے طور پر پیش کرنے کی حکمتِ عملی طے کی گئی۔
ذرائع کے مطابق اس حساس اجلاس میں اعلیٰ عسکری حکام، وفاقی وزراء اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار شریک ہوئے۔ اجلاس کا ایجنڈا خلیجی جنگ کے تصفیے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی حالیہ سفارتی کاوشوں کا جائزہ لینا تھا۔اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اب تک کے سفارتی رابطوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں خلیجی جنگ کے مستقل حل کے لیے پاکستان میں مذاکرات کی میزبانی پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ ان اہم مذاکرات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری اور ہنگامی اقدامات فوری طور پر مکمل کیے جائیں۔سفارتی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب یہ خبر سامنے آئی کہ وزیراعظم شہباز شریف آج رات صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ایک خصوصی ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں اعلیٰ سطح اجلاس میں طے پانے والی حکمتِ عملی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی پیش رفت پر صدر کو اعتماد میں لیا جائے گا۔