نئی دہلی : بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 4 ہزار 454 مریض ہلاک ہوگئے یوں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ یہاں مزید 2 لاکھ 22 ہزار 315 افراد وائرس سے متاثر پائے گئے۔بھارت میں اب تک کورونا وائرس کے 2 کروڑ 67 لاکھ 50 ہزار سے زائد مصدقہ کیسز اور 3 لاکھ 3 ہزار 720 اموات ہوچکی ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کیساتھ بلیک فنگس کے کیسز میں تیز ی سے اضافہ ہور ہا ہے ،ماہرین کے مطابق متاثرہ مریضوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو رہا ہے ،بلیک فنگس میں مبتلا اکثر مریض ایسے ہیں جنہیں شوگر کی شکایت پہلے سے ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک فنگس کورونا وائرس کی طرح خطرناک بیماری بنتی جا رہی ہے ،بلیک فنگس کے شکار مریضوں کا سانس خراب ہونے کیساتھ بینائی اور سونگھنے کی حس بھی خراب ہونے کی شکایت ہے ،مہاراشٹر میں اب تک دو ہزار ،گجرات میں بارسو سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں ۔
واضح رہے چند روز قبل ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے بھارت میں تباہی پھیلانے والی کورونا کی نئی قسم کو پوری دنیا کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہر ملک کو اس سے بچاؤ کے سخت ترین اقدامات کرنا ہونگے کیونکہ یہ وائرس پھیل گیا تو اس سے بہت زیادہ نقصان ہوگا۔
ڈبلیو ایچ او نے انڈیا میں پھیلنے والے کورونا پر تحقیق کیلئے ایک خصوصی ٹیم قائم کی تھی جس نے دن رات کی تحقیق کے بعد مرتب رپورٹ کےحقائق اب دنیا کے سامنے پیش کر دیئے ہیں۔ اس ہوشربا رپورٹ میں انڈین کورونا کو بی 1617 کا نام دیتے ہوئے اسے عالمی خطرہ قرار دیدیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈین کورونا کی قسم نے وہاں کے نظام صحت کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ وائرس پھیل گیا تو اس سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھی اس تحقیق کے ابتدائی نکات ہی جاری کئے گئے ہیں، عالمی ادارہ صحت کے حکام جلد ہی اس پر ایک پریس کانفرنس کے ذریعے دنیا کو آگاہ کرینگے۔