اسلام آباد:بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا مشن نیتھن پورٹر کی قیادت میں پاکستان کا دورہ مکمل کر چکا ہے۔ دورے کے دوران مالی سال 2025-26 کے بجٹ، معاشی اصلاحات اور مالیاتی پالیسیوں پر تفصیلی مذاکرات ہوئے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام سے ہونے والی بات چیت مثبت اور تعمیری رہی، جبکہ حکومت نے مالیاتی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کے لیے عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے درمیان رکھنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ مشن نے زور دیا کہ افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے مالیاتی پالیسیاں ترتیب دی جائیں۔
آئی ایم ایف نے آئندہ بجٹ میں ٹیکس آمدن بڑھانے، اخراجات کی ترجیحات پر نظرثانی اور سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے واضح حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ مشن کے مطابق اگلے مالی سال کے لیے پرائمری سرپلس کا ہدف 1.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ توانائی کے شعبے میں مہنگی بجلی کے نظام کو ختم کرنے، لاگت کم کرنے اور اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس کے علاوہ، زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے اور کرنسی کے تبادلے کی شرح کو مارکیٹ بنیادوں پر رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔
آئی ایم ایف مشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ مستقبل میں بھی پاکستان کے ساتھ اصلاحاتی ایجنڈے میں مکمل تعاون جاری رکھے گا۔ آئندہ بجٹ سے متعلق مذاکرات جاری رہیں گے، جب کہ اگلا جائزہ اجلاس رواں سال کی دوسری ششماہی میں متوقع ہے۔