واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر ایک انتہائی اہم بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکا، اسلامی جمہوریہ ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے درمیان امن معاہدہ 'بڑے پیمانے پر طے' پا چکا ہے، جس پر اب صرف حتمی دستخط ہونا باقی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ اس تاریخی ڈیل کے نتیجے میں عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، مصر، اردن، بحرین اور اسرائیل کے سربراہان سے تفصیلی ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔
پاکستانی ثالثی کا اعتراف: امریکی صدر اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس پورے امن عمل اور تہران-واشنگٹن ڈیڈ لاک کو ختم کرنے میں پاکستان نے مرکزی ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران اور ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کو اس ڈیل کی کامیابی میں سب سے بڑا بریک تھرو قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد فریقین کے مابین اختلافات کو ختم کرنے میں واضح مدد ملی۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق، اس 60 روزہ مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے تحت جنگ کا باقاعدہ خاتمہ ہوگا، ایران پر عائد سفری و تجارتی پابندیوں میں نرمی کی جائے گی، اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے، جبکہ ایران اپنے یورینیم کی افزودگی کو محدود کرنے پر مذاکرات جاری رکھے گا۔ اس تاریخی معاہدے کا باقاعدہ اور حتمی اعلان اگلے چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔