بیروت : اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں فضائی حملہ کر کے حزب اللہ کے چیف آف سٹاف ہیثم علی طبطبائی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بن یامین نتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل نے یہ حملہ حزب اللہ کے اہم کمانڈر پر کیا، جو تنظیم کی عسکری بحالی اور ہتھیار جمع کرنے کی سرگرمیوں کی قیادت کر رہے تھے۔
عرب میڈیا کے مطابق، حزب اللہ نے اس حملے میں اپنے کمانڈر ہیثم طبطبائی اور ان کے 5 ساتھیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ سینیئر حزب اللہ رہنما محمد محمد قمتی نے اسرائیل کے اس اقدام کو "حد عبور کرنے" کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ جوابی کارروائی کے لیے غور و فکر جاری ہے، کیونکہ یہ حملہ ایک نئی سرخ لکیر کو عبور کرتا ہے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں بیروت کے جنوبی مضافات میں 28 شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ حملہ اس مرکزی سڑک پر کیا گیا جہاں مقامی افراد نے بتایا کہ دھماکے سے پہلے وہ اسرائیلی طیاروں کی آواز سن رہے تھے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ اسرائیل دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو متعدد محاذوں پر جاری رکھے گا۔ نومبر میں اسرائیل نے جنوب لبنان میں فضائی حملوں کو تیز کر دیا ہے، جو تقریباً روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ ان حملوں کا مقصد سرحدی علاقے میں حزب اللہ کی عسکری فعالیت کو روکنا بتایا گیا ہے۔
حزب اللہ کا موقف ہے کہ اس نے اسرائیل کی سرحد کے قریب اپنی عسکری موجودگی کو ختم کر دیا ہے اور لبنان کی فوج کی تعیناتی کے تقاضوں پر عمل کیا ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل کی طرف سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ایک سینئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ اسرائیل نے اس حملے سے پہلے امریکہ کو اطلاع نہیں دی تھی، تاہم امریکی انتظامیہ کو حملے کے فوراً بعد آگاہ کیا گیا۔ دوسرے امریکی اہلکار نے کہا کہ واشنگٹن کو یہ اطلاعات پہلے سے تھیں کہ اسرائیل لبنان میں اپنے حملوں کو بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان عالمی برادری سے دوبارہ اپنے فرائض کا احساس کرنے اور لبنان اور اس کے عوام پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔