نیویارک : پاکستان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کی سیاسی منتقلی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی پابندیوں میں نرمی لائے تاکہ 14 سالہ خانہ جنگی کے بعد ملک میں امن و استحکام قائم کیا جا سکے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل نمائندہ، عثمان جدون، نے 15 رکنی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام کو اقتصادی بحالی، تعمیر نو اور معاشرتی انضمام کے عمل میں کامیابی کے لیے پابندیوں میں نرمی ضروری ہے۔
عثمان جدون نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام کی حکمرانی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام اور ریاستی اداروں کی بحالی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے حالیہ شامی پیپلز اسمبلی کے انتخابات کو ایک مثبت قدم قرار دیا، جو سیاسی عمل کو آگے بڑھانے اور شامی اداروں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے اہم ہیں۔
پاکستانی مندوب نے اس امید کا اظہار کیا کہ جن علاقوں میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتخابات مؤخر ہوئے تھے، وہاں جلد انتخابی عمل شروع کیا جا سکے گا تاکہ پورے ملک میں جامع سیاسی شمولیت حاصل کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، عثمان جدون نے شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اور مرکزی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا، جس کے تحت ایس ڈی ایف کے دستوں کو قومی فوج میں شامل کیا جا رہا ہے۔
عثمان جدون نے یہ بھی کہا کہ شام کی مرکزی حکومت کا دائرہ اختیار پورے ملک میں پھیلایا جائے، خاص طور پر سویدا، حلب اور دیر الزور جیسے علاقوں تک، تاکہ وہاں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکے۔
انہوں نے پاکستان کی جانب سے شام کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کی حمایت سے شام ایک مضبوط، پُرامن اور خوشحال ملک بننے کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔ پاکستانی نمائندہ نے شامی قیادت میں اور شامی ملکیت والے سیاسی عمل کی حمایت کا عہد بھی کیا۔