Get Alerts

بھارتی حکومتی پالیسیوں کے اثرات ،مقبوضہ کشمیر میں اقتصادی بحران میں شدت

بھارتی حکومتی پالیسیوں کے اثرات ،مقبوضہ کشمیر میں اقتصادی بحران میں شدت

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والا اقتصادی بحران شدت اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات کشمیری عوام کی زندگیوں پر گہرے پڑ رہے ہیں۔ کشمیر چیمبر آف کامرس کے مطابق، وادی کی معیشت کو اب تک 400 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے اور سیاحتی شعبے کو 100 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد، بھارت کی پالیسیوں نے نہ صرف کشمیر کی خودمختاری کو متاثر کیا بلکہ اس کے معاشی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ مواصلاتی بلیک آؤٹ اور کرفیو کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کر دیا گیا، جبکہ تعلیمی اداروں کی بندش اور زرعی مصنوعات پر عائد پابندیوں نے کشمیری نوجوانوں اور کسانوں کو بدترین مالی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی بھاری تعداد میں موجودگی نہ صرف کشمیریوں کی روزمرہ زندگی میں رکاوٹ ہے بلکہ یہ علاقے کی معاشی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی  ہے۔ کشمیری عوام  جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ٹیگز: