Get Alerts

چھتیس سنگھ پورہ سانحہ فالس فلیگ آپریشن تھا، بھارتی فوجی افسر کے انکشافات نے 25 سال بعد سچ بے نقاب کردیا: گرپتونت سنگھ پنوں

چھتیس سنگھ پورہ سانحہ فالس فلیگ آپریشن تھا، بھارتی فوجی افسر کے انکشافات نے 25 سال بعد سچ بے نقاب کردیا: گرپتونت سنگھ پنوں

نیویارک: خالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے انکشاف کیا ہے کہ چھتیس سنگھ پورہ میں سکھوں کا قتل عام بھارتی فوج کا فالس فلیگ آپریشن تھا، اس کو بی جے پی حکومت نے امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت کے موقع پرکیاتھا۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی فوج کے سابق افسر کیپٹن راٹھور نے کئی بار نیویارک میں ان سے ملاقات کی اور اعتراف کیا کہ وہ خود چھتیس سنگھ پورہ میں فائرنگ سکواڈ کی قیادت کر رہا تھا۔ راٹھور کے مطابق 20 مارچ 2000 کو انہیں سکھوں کے قتل کے احکامات دیے گئے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کو دہشتگرد ریاست کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

کیپٹن راٹھور کے مطابق بھارتی فوجی دستے نے مجاہدین کا بھیس بنا کر سکھ آبادی پر حملہ کیا، انہیں دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے گولیاں ماریں اور بعد میں "جے ہند" کے نعرے لگائے۔ انکشافات کے مطابق اس آپریشن کے بعد فائرنگ سکواڈ کے تمام افراد کو بھارتی فوج نے ایک ایک کر کے قتل کر دیا تاکہ ثبوت مٹائے جا سکیں۔

گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ 2006 میں بھارتی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے بھی تسلیم کیا کہ واقعے میں مارے گئے پانچ مقامی افراد بے گناہ تھے، جنہیں پاکستانی دہشتگرد قرار دے کر قتل کیا گیا تھا۔رہنما خالصتان تحریک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ریاستی دہشتگردی کا نوٹس لے

ٹیگز: