کیلیفورنیا: فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی مجموعی افرادی قوت میں کمی کرتے ہوئے تقریباً 10 فیصد ملازمین کو فارغ کرے گی، جس سے قریباً 8 ہزار افراد متاثر ہوں گے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ کمپنی کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور تنظیمی ڈھانچے میں بہتری کے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ میٹا نے تقریباً 6 ہزار خالی آسامیوں کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اخراجات کو کم اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
کمپنی کی چیف پیپل آفیسر جینیل گیل کے مطابق یہ اقدامات ادارے کے ڈھانچے کو مؤثر بنانے اور اے آئی ٹیکنالوجی میں جاری بھاری سرمایہ کاری کے توازن کے لیے ضروری ہیں۔
میٹا پہلے ہی 2025 میں مصنوعی ذہانت پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہے جبکہ 2026 میں بھی ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی منصوبوں پر مزید بھاری اخراجات کا ارادہ رکھتی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں اس کے طویل المدتی تکنیکی وژن، خصوصاً جدید اے آئی سسٹمز اور “سپر انٹیلی جنس” کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔