اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بہن کے وراثتی حق کے خلاف دائر بھائی کی اپیل مسترد کر دی، اور واضح الفاظ میں کہا کہ قرآن مجید میں بہن کو جائیداد میں جو حق دیا گیا ہے، اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان بھی شامل تھے۔ سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ بعض اوقات بھائی بہنوں سے گھر کے کام تو کرواتے ہیں، لیکن جب جائیداد میں حق دینے کی بات آتی ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ بہنیں کھانا پکاتی ہیں، صفائی کرتی ہیں، لیکن حق سے محروم رہتی ہیں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ قرآن میں واضح طور پر بہن کے حصے کا ذکر موجود ہے، اس حکم سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جائیداد کی تقسیم کے کاغذات پر متعلقہ بہن کے دستخط تک موجود نہیں تھے۔
بھائی کے وکیل کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ بہن کو حصہ دیا گیا ہے، لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ اسے کم دیا گیا ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے بھائی کی اپیل خارج کر دی اور بہن کے وراثتی حق کو برقرار رکھا۔