Get Alerts

پی ڈی ایم کا متفقہ فیصلہ ہے حکومت سے مذاکرات سے نہیں ہوں گے، مریم نواز

پی ڈی ایم کا متفقہ فیصلہ ہے حکومت سے مذاکرات سے نہیں ہوں گے، مریم نواز
سورس: فائل فوٹو

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا یہ متفقہ فیصلہ کہ کسی صورت میں بھی حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں کیئے جائیں گے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ پی ڈی ایم کا یہ فیصلہ یے مذاکرات نہیں کریں اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف بھی پی ڈی ایم کے موقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ اس لیے کسی طرح کے بھی چھوٹے یا گرینڈ ڈائیلاگ کی باتیں بالکل بے معنی ہیں کیونکہ اس جعلی اور کٹھ پتلی حکومت کو کسی طرح سے بھی این آر او نہیں دیا جائے گا اور یہ پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ 

دوسری جانب جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مولانا شیرانی کی بات کو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سپورٹ کیا جا رہا ہے۔ ہم نااہل حکومت کے خلاف لڑ ر ہے ہیں اور سب کا اس چیز پر اتفاق ہے کہ حکومت کو جانا چاہیئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے پولیس کہتی ہے کہ آپ کی سیکیورٹی کو ختم کرنے کے لئے دباو ہے لیکن حکومت جو کر لے ہم اپنی تحریک کو جاری رکھیں گے۔ جنوری میں کراچی میں اسرائیل مردہ باد ریلی ہو گی جبکہ حکومت اگر اپنے استعفے اور الیکشن کا اعلان کرے تو پھر ان کے ساتھ بات ہو سکتی ہے۔ 

خیال رہے کہ جمعیت علما اسلام (ف) نے مولانا محمد خان شیرانی اور حافظ حسین احمد کو پارٹی سے باہر کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعیت علما اسلام کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس میں مولانا شیرانی، حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب اور مولانا شجاع الملک کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ مجلس عاملہ نے نظم و ضبط کمیٹی کی سفارشات پر متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس کے دوران مجلس عاملہ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی رہنما وضاحت کرتا ہے اور معافی مانگتا ہے تو پھر کمیٹی فیصلہ کرنے میں بااختیار ہو گی۔ 

خیال رہے کہ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل ہر جماعت کے اپنے ، اپنے مفادات ہیں اور یہ غیر فطری اتحاد ہے جو بہت ہی جلد ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس اتحاد میں کوئی نظریہ نظر نہیں آ رہا۔ صرف اور صرف کرسی کی خاطر ہر کوئی بھاگ دوڑ میں مصروف ہے۔