واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے آغاز میں سٹیٹ آف دی یونین خطاب کیا، جس میں انہوں نے ملک کی موجودہ معیشت، داخلی و خارجی پالیسیوں اور مختلف اہم امور پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ خطاب میں انہوں نے اپنے دورِ حکومت کی کامیابیوں، عالمی مسائل پر اپنی پالیسیوں اور داخلی تحفظ کے حوالے سے اپنے عزائم کا تذکرہ کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ پانچ ماہ قبل امریکہ نے اپنی آزادی کی 250 ویں سالگرہ منائی اور اب ملک نئی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب وہ اقتدار میں آئے تو ملک کو شدید معاشی بحران اور کئی سنگین مسائل کا سامنا تھا، لیکن ان کی حکومت نے ایک سال کے اندر بے مثال اصلاحات کیں اور اقتصادی حالات کو بہتر بنایا۔
صدر ٹرمپ نے خاص طور پر مہنگائی میں کمی پر زور دیا، ان کے مطابق بائیڈن دور میں مہنگائی اپنی بلند ترین سطح پر تھی، لیکن ان کی حکومت کے اقدامات کے باعث مہنگائی 1.7 فیصد تک آچکی ہے اور ملک بدترین اقتصادی بحران سے نکل آیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی تیل کی پیداوار میں روزانہ چھ لاکھ بیرل سے زائد اضافہ ہوا ہے اور قدرتی گیس کی پیداوار بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو امریکی معیشت کی طاقت کی ایک اور علامت قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے ایک اہم معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ان کی حکومت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی ممکنہ نیوکلیئر جنگ کو روکا۔ ٹرمپ کے مطابق دونوں ممالک ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے، اور ان کی مداخلت سے بڑی تباہی کو روکا گیا۔ انہوں نے پاکستان کےوزیراعظم شہباز شریف کا حوالادیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ کی مداخلت نے ساڑھے تین کروڑ افراد کی جان بچائی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج امریکی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں اور گزشتہ نو ماہ کے دوران ملک میں کوئی غیر قانونی تارکین وطن داخل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق، ان کی حکومت غیر قانونی تارکین وطن کو ملک سے نکال رہی ہے، اور انہوں نے کہا کہ وہ صرف ان افراد کا خیرمقدم کرتے ہیں جو قانونی طریقے سے امریکا آتے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی تجارتی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عالمی سطح پر امریکہ کے مفادات کا تحفظ کیا اور اس کے بدلے میں امریکہ نے اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔ ان کے مطابق، امریکہ نے عالمی ٹیرف نافذ کیے جس سے امریکہ کو فوائد حاصل ہوئے اور اس کی قومی سلامتی میں بھی بہتری آئی۔ تاہم، انہوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو افسوسناک قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ ٹیرف نافذ کرتے ہوئے صدارتی اختیارات سے تجاوز کر گئے۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اب وہ تجارتی قانون کی دفعہ 122 کے تحت 15 فیصد نئے عالمی ٹیرف نافذ کر رہے ہیں تاکہ امریکہ کی تجارتی پوزیشن مزید مستحکم ہو سکے۔
ٹرمپ نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو بھی اپنی پالیسیوں کا اہم حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، انہوں نے ایران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکا اور ایرانی میزائل پروگرام کو ناکام بنایا۔ صدر نے کہا کہ ایران نے ایسے میزائل تیار کرنے کی کوشش کی تھی جو امریکا تک پہنچ سکتے تھے، لیکن ان کی حکومت نے اس خطرے کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے ایران میں حکومت کے ہاتھوں 32 ہزار مظاہرین کی ہلاکت کی مذمت کی اور کہا کہ ایران کے معاملے کو سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، مگر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے نیوکلیئر ہتھیاروں کے حوالے سے امریکی پالیسی بہت سخت ہے۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں امریکی فوج اور پولیس کے کردار کو سراہا اور کہا کہ وہ واشنگٹن ڈی سی کی طرح دیگر شہروں کو بھی محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے آئس ہاکی ٹیم کی بھی تعریف کی اور ان کی کامیابیوں کو امریکی فخر قرار دیا۔
ٹرمپ کے خطاب کے دوران ایوان نمائندگان میں ایک تنازعہ پیدا ہوا۔ جب صدر ایوان میں داخل ہو رہے تھے تو ڈیموکریٹ رکن کانگریس، ال گرین نے ایک پلے کارڈ اٹھایا جس پر لکھا تھا "BLACK PEOPLE AREN’T APES!" یعنی "سیاہ فام لوگ بندر نہیں ہیں"۔ ری پبلکن ارکان نے ان کو روکا اور سکیورٹی اہلکاروں نے ال گرین کو ایوان سے باہر نکال دیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ "امریکا واپس آ چکا ہے" اور اسے "صدیوں کی سب سے بڑی واپسی" قرار دیا۔ ان کے مطابق، امریکہ اب پہلے سے زیادہ مضبوط، امیر اور کامیاب ہے۔