Get Alerts

 تیل دیکھیں تیل کی دھار دیکھیں

 تیل دیکھیں تیل کی دھار دیکھیں

تحریر: طارق وسیم
افغانستان کی  سرزمین سے پاکستانی علاقوں میں دہشت گرد بھیجنے کا سلسلہ مستقل جاری ہے ،پاکستان نے طالبان رجیم کو بار ہا سمجھایا کہ اپنی حرکتیں درست کریں لیکن ان کے کان پر جوں تک نہ  رینگی ،رپورٹ  کے مطا بق الٹےتحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو افغانستان سے  نکالنے کے لیے پاکستان سے دس ارب روپے مانگ لیے جس پر پاکستانی قیادت زیر لب مسکراتی رہی ۔
 پاکستان  نے افغانستان کے اندر کارروائی کی تو، طالبان نے روایتی طور پر پہلے بڑھکیں ماریں، اس کے بعد قطر کے ذریعے معافی تلافی شرو ع کر دی۔ قطر اور ترکی میں مذاکرات ہوئے، جن کا ون پوائنٹ ایجنڈا تھا کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد ہمارے حوالے کرو، لیکن طالبان رجیم نے اس پر آمادگی ظاہر کرنے کے بجائے اپنی مجبوریاں سناتے ہوئے کہا کہ  ان دہشت گردوں کو پکڑنا اور پاکستان کے حوالے کرنا ان کے بس کا روگ نہیں ۔ 
پاکستان میں خود کش حملوں کا سلسلہ نہ رکا  تو پاکستان نے  دو روز قبل ایک مرتبہ پھر پکتیکا ،خوست ،ننگر ہار  کے سات مختلف مقامات پر فضائی حملے کرکے    دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔رپورٹ کے مطابق لگ بھگ اسی  یا سو  کے قریب دہشت گردوں کے مارے جانے کی تصدیق کی  گئی اور پارلیمنٹ  میں بھی اس کی گونج سنائی دی گئی۔ کابل پر قابض  طالبان رجیم کے خلاف احمد شاہ مسعود کے بیٹے کی قیادت  میں قومی مزاحمتی تحریک نے   اپنی جدو جہد تیز کر دی ہے ۔ طالبان رجیم کے وزیر سراج الدین حقانی اس حملے پر خاموش ہیں ۔ تاجک ،ازبک اور دیگر غیر  پشتون گروپ اس رجیم سے چھٹکارے کے لیے متحرک ہیں ۔پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے کہ  واخان پٹی اپنے کنٹرول میں لے کر  قابض طالبان رجیم کا رابطہ باقی دنیا سے منقطع کر دے ،سوائے بھارت کے دنیا بھر میں پاکستانی کارروائی پر خاموشی ہے  جو نیم رضامندی سمجھی جا رہی  ہے ۔
افغان طالبان ہوں یا  کوئی دوسرا گروہ پاکستان کے لیے افغانستان پر قبضہ 36 سے 72 گھنٹے کا کھیل ہے، لیکن پاکستان شاید فیصلہ کر چکا ہے کہ کابل میں قیادت کی تبدیلی وہاں کے عوامی رد عمل کے نتیجے میں آنی چاہیے ،طالبان رجیم میں لڑائی کی اطلاعات ہیں ۔ عوام مشتعل ہے ،چین اور روس کی جانب سے خاموشی ہے ۔ بھارت  صرف بیانات دینےتک محدود ہے اور اتنی ہی اس کی بساط ہے،  لیکن الجزیرہ ٹی وی اور برطانوی میڈیا  پاکستان مخالف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں۔حقائق کو صرف مسخ نہیں کیا جا رہا  بلکہ دفن کر کے صرف جھوٹ کا پرچار جاری ہے۔الجزیرہ  کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو  لڑاکے قرار دے رہا ہے ۔ قطر کا معاملہ کسی حد تک سمجھ آتا ہے ،طالبان کو وہ اپنا اثاثہ سمجھتا ہے ، دوحہ میں ان کو دفتر بنا کر دے رکھا ہے ،مقصد علاقائی طور پر ایک پراکسی کا استعمال ہے ،اس وقت الجزیرہ کی جانب سے دہشت گردوں کو  لڑاکے کہنے کا مقصد بھی صرف اتنا ہے کہ اگر ایران ہمارے خلاف ایکشن کرےتو پاکستان اسے روکے۔ وزیر اعظم پاکستان قطر  کے دورے پر گئے ،  بات چیت بھی ہوئی ہے لیکن ایک ایسا ملک جو کسی بھی قسم کی زمینی فوج نہیں رکھتا  ، فضائیہ  میں پائلٹ پاکستانی ہیں  کبھی کوئی جنگ نہیں لڑی ایسی ہی  حرکات کر سکتا ہے۔ الجزیرہ  ہو یا دوحہ انہیں شاید یہ پتہ نہیں کہ جنہیں وہ لڑاکے قرار دے رہے ہیں انہیں بندوق چلانا بھی ہم نے سکھائی ہے ،یہ تو وہ لوگ تھے جو روسی ٹینکوں کے پٹے میں گیلا کپڑا ڈال کر اسے روکتے تھے ۔ افغان جنگ یا روس کے خلاف جہاد  افغانیوں نے نہیں لڑی ،پاکستان سے رضا کار گئے تھے لڑنے ۔مصر اور عرب دنیا کے لوگ روس کے سامنے  دیوار بن کر کھڑے ہو گئے تھے ،افغانیوں کا ایک طبقہ روس کے ساتھ تھا ،دوسرا گھروں میں دبکا ہوا تھا۔
گل بدین  حکمت یار اور احمد شاہ مسعود  کو پاکستان میں سیاسی سفارتی اور حربی تربیت دی گئی تھی ،ہاں ازبک اور تاجک  واقعی لڑاکے تھے ،طالبان ہوں حزب اسلامی  سب کا تعلق پاکستانی سرزمین سے ہے ،زیادہ تر لوگ یہاں پیدا ہوئے اور اکوڑہ خٹک جیسے مدارس میں پڑھتے رہے ۔موجودہ افغان طالبا ن رجیم بھی پاکستان ہی میں تربیت یافتہ ہے ۔ افغان وہی کر رہے ہیں جو بھارتی کرتے ہیں ،عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنا کر آگے کر دیتے ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ ان کی 5 ہزار سالہ تاریخ ہے    ،  منشیات کا دھندہ ہو یا جرائم پیشہ لوگوں کو پناہ دینا یہ افغانیوں  کی روایات ہیں ۔ اس وقت  بھی افغانستان میں پچیس ہزار سے زیادہ بین الاقوامی دہشت گردوں کی کھیپ موجود  ہے ، جن میں تیرہ ہزار غیر افغانی ہیں ،سات ہزار سے زیادہ تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ہیں ،،جبکہ چھ ہزار سے زائد داعش اور القاعدہ کے لوگ ہیں، جن کا تعلق عرب  دنیا  اور افریقی ممالک سے ہے ،یہ تمام لوگ طالبان رجیم کی فورس ہیں ،لیکن دنیا کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اقوام متحدہ کے زیرانتظام  دنیا بھر میں سب سے زیادہ امن مشن پاکستانی فوج سر انجام  دیتی ہے، ہمیں ہر قوم اور نسل کے بدمعاشوں سے نمٹنا آتا ہے ۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

ٹیگز: