گوجر خان :گوجر خان کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں خواتین کی بیت الخلا میں ویڈیوز بنانے کے الزام میں پنجاب پولیس کے ایک ہیڈ کانسٹیبل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس (اے ایس پی) سید دانیال کے مطابق پولیس کو ایک مقامی رہائشی کی شکایت موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ مذکورہ کانسٹیبل ہسپتال کے بیت الخلا میں خواتین کی ویڈیوز بنا رہا تھا۔ شکایت ملنے پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو موقع سے گرفتار کر لیا اور اس کا موبائل فون قبضے میں لے لیا۔
ملزم کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 354، 292، اور 509 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
مزید تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزم پر 2020 میں ایک بیوہ خاتون کے ساتھ زیادتی کا مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے، جو بعد ازاں صلح کے بعد واپس لے لیا گیا تھا۔
تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سرمد کیانی نے وضاحت کی کہ ہسپتال کے بیت الخلا میں کسی قسم کے کیمرے نصب نہیں، البتہ راہداریوں میں نگرانی کے لیے کیمرے موجود ہیں۔
ادھر مقامی شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اداروں میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
یاد رہے کہ اس نوعیت کے واقعات ماضی میں بھی مختلف شہروں میں رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں ویڈیو سکینڈلز اور خواتین کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کے متعدد کیسز شامل ہیں۔