مقبوضہ کشمیر میں جی 20 اجلاس بلانا بدنیتی ہے، کسی صورت قبول نہیں کریں گے: پاکستان 

مقبوضہ کشمیر میں جی 20 اجلاس بلانا بدنیتی ہے، کسی صورت قبول نہیں کریں گے: پاکستان 
سورس: File

اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہے کہ  پاکستان اور بھارت کے مابین جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ "تنازع" ہے ۔ جموں و کشمیر کا علاقہ 1947 سے بھارت کے زبردستی اور غیر قانونی قبضے میں ہے ۔ تنازع 7 دہائیوں سے زائد سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل ایجنڈے پر ہے ۔ تسلیم شدہ حقائق نظر انداز کرکے مقبوضہ خطے میں جی 20 اجلاس بلانے پر غور کرنا بددیانتی ہے۔ اس بھارتی بددیانتی کو عالمی برادری کسی صورت قبول نہیں کر سکتی۔

ہندوستان کا متنازعہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جی 20 اجلاس بلانے کے معاملے پر پاکستان نے ہندوستان کی ایک اور مکروہ سازش کو سختی سے مسترد کر دیا۔ بھارتی میڈیا میں ایسی خبریں نشاندہی ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جی 20 اجلاس منعقد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہے کہ  پاکستان اور بھارت کے مابین جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ "تنازع" ہے ۔ جموں و کشمیر کا علاقہ 1947 سے بھارت کے زبردستی اور غیر قانونی قبضے میں ہے ۔ تنازع سات دہائیوں سے زائد سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل ایجنڈے پر ہے ۔

بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں وسیع پیمانے پر مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ہے ۔ 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی اور یکطرفہ بھارتی اقدامات کے بعد قابض افواج نے 639 بے گناہ کشمیری شہید کیے۔  اقوام متحدہ انسانی حقوق کمشنر نے ہندوستان کی کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کا پردہ چاک کیا۔

 اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی 2018ء، 2019ء کی رپورٹس واضح ہیں ہندوستان مقبوضہ خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے درپے ہے ۔ بھارت اقوام متحدہ سلامتی کونسل قراردادوں، بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیر رہا ہے ۔ ہندوستان چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کی عالمی سطح پر متنازعہ حیثیت تسلیم شدہ ہے ۔ تسلیم شدہ حقائق نظر انداز کرکے مقبوضہ خطے میں جی 20 اجلاس بلانے پر غور کرنا بددیانتی ہے ۔ اس بھارتی بددیانتی کو عالمی برادری کسی صورت قبول نہیں کر سکتی ۔ بھارت متنازعہ تجویز سے 7 دہائیوں کے غیرقانونی قبضے کا بین الاقوامی جواز تلاش کر رہا ہے ۔ امید ہے جی 20 اراکین، قانون و انصاف کے تقاضوں سے پوری طرح آگاہ ہوں گے ۔ امید ہے جی 20 رکن ممالک اس متنازعہ بھارتی کوشش کو صریحاً مسترد کریں گے۔

مصنف کے بارے میں