Get Alerts

ٹیکس نظام انصاف پر مبنی نہیں، بجٹ نے ثابت کیا کہ یہ نظام نہیں چل سکتا: شاہد خاقان عباسی

ٹیکس نظام انصاف پر مبنی نہیں، بجٹ نے ثابت کیا کہ یہ نظام نہیں چل سکتا: شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ  موجودہ ٹیکس نظام انصاف پر مبنی نہیں، اور بجٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ معاشی نظام مزید نہیں چل سکتا۔

اسلام آباد میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ موجودہ بجٹ 30 سال پرانے طرز کا ہے جس میں اخراجات کنٹرول کرنے کے بجائے قرضے اور نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایف بی آر کا نظام بہتر نہ بنایا گیا تو سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو جائے گا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ بجٹ میں کوئی ریلیف شامل نہیں، وزرا اور اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں سیکڑوں فیصد بڑھا دی گئیں جبکہ عوام پر بوجھ ڈال دیا گیا۔ پنشنرز پر ٹیکس، منافع اسکیموں پر شرح میں اضافہ، مرغی اور چینی جیسی اشیاء پر بھی ٹیکس لگا دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی سکیموں میں اضافہ صرف ووٹ لینے کے لیے کیا گیا، جب کہ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی مالیاتی ترجیحات عوام کی بجائے اپنے مفادات پر مبنی ہیں، اور بجٹ میں کسی بھی قسم کی اصلاحات شامل نہیں۔

ٹیگز: