نیب کیلئے آسان شکار نہیں بنوں گی، مریم نواز

نیب کیلئے آسان شکار نہیں بنوں گی، مریم نواز
سورس: فوٹو/اسکرین گریب نیو نیوز

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے اگر کورونا وائرس کی وجہ سے  میری پیشی ملتوی کی تو پھر وزیراعظم نے قرنطینہ میں ہوتے ہوئے اجلاس کیوں بلایا، کیا ملک میں قانون کا اطلاق صر ف اپوزیشن پر ہوتا ہے،  نیب احتساب کے نام پر صرف اپوزیشن کو نشانہ کیوں بنا رہا ہے۔ 

 تفصیلات کے مطابق مریم نواز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قومی احتساب بیورو(نیب) عمران خان نیازی کے کہنے پر چلتا ہے، اگر ملک میں قانون ہے تو وزیراعظم آفس میں بھی لاک ڈاؤن ہونا چاہئے، اگر نیب نے احتساب عدالت میں میری پیشی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی کورونا وائرس کے حوالے سے ہدایات اور مفاد عامہ میں ملتوی کی ہے تو وزیراعظم نے آئیسولیشن میں ہونے کے باوجود آج اجلاس کیوں بلایا۔ 

 مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ نیب نے جتنا انتقام لینا تھا لے لیا لیکن میں اس کیلئے آسان شکار نہیں بنوں گی۔ نیب پولیٹیکل انجینئرنگ کا ادارہ ہے جو عمران خان کو مشکل میں دیکھ کر اس کی مدد کو پہنچ جاتا ہے مگر میں نیب کو بتانا چاہتی ہوں کہ ان کے چہرے عوام نے پہچان لئے اور وہ اس کھیل کو سمجھ چکے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ نیب نے جس کیس میں مجھے بلایا اس میں 48 دن نیب میں رہ چکی ہوں اور  نیب کی حراست کے دوران میرے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ بھی قوم کے سامنے لاؤں گی۔ میں عوام کی شکر گزار ہونے کیساتھ ساتھ خصوصی طور پر پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کو سپورٹ کیا۔

جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ  سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کس جماعت سے ہو گا ؟ تو ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپوزیشن لیڈر اعظم نذیر تارڑ ہوں گے کیونکہ اپوزیشن اتحاد کی جماعتوں میں یہ طے ہوا تھا کہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی ہوں گے اور اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ نواز سے ہو گا اور اعظم نذیر تارڑ کے نام پر سب نے اتفاق کیا تھا۔ 

 اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) کے نومنتخب سینیٹر جہانزیب جمال دینی نے کہا مریم نواز سے ہونے والی آج کی ملاقات میں موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا، ہم ناصرف پی ڈی ایم کے فیصلے کیساتھ ہیں بلکہ ہماری کوشش ہو گی کہ اپوزیشن اتحاد کو مزید مضبوط کریں کیونکہ یہ پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی چاہتا ہے،حکومت کی ناکام پالیسیوں سے مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے غریب لوگوں کا جینا اجیرن ہو چکا ہے، مگر حکومت اپوزیشن سے انتقام لینے میں مصروف ہے۔ 

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی 26 مارچ کی پیشی ملتوی کر دی۔ نیب کی جانب سے پیشی ملتوی کرنے کے حوالے سے اعلامیہ جاری کر دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی پیشی کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ 

اعلامیے میں کہا گیا کہ آج ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں مریم نواز کی نیب آفس لاہور میں پیش کورونا وبا کی تیسری لہر کے حوالے سے جاری ہدایات کا جائزہ لیا گیا۔ نیب نے مریم نواز کو پہلے بھی طلب کیا تھا اور اس موقع پر نیب لاہور کی عمارت  میں دانستہ طور پر پتھراؤ کیا گیا تھا جو کہ نیب کی تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے جبکہ ملزمان کیخلاف اس غیر قانونی برتاؤ کی ایف آئی آر بھی متعلقہ تھانے میں درج ہے۔

نیب اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ نیب قانون کی شق (a) 31 کی رو سے تحقیقات میں عدم تعاون کا مظاہرہ کرنے، رخنہ ڈالنے یا گمراہ کرنے کی صورت میں 10 سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے اور ان قانونی اختیارات کے باوجود نیب کی جانب سے تاحال انتہائی صبرکا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ نیب لاہور نے مریم نواز کو دوسری مرتبہ 26 مارچ کو نیب تفتیشی ٹیموں کے روبرو پیش ہونے کے لیے نوٹس ارسال کیے تاہم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی ہدایات کو مد نظر رکھتے ہوئے اور مفاد عامہ کے پیش نظر نیب کی جانب اصولی فیصلہ کرتے ہوئے ملزمہ مریم نواز کی نیب لاہور میں کل کی پیشی ملتوی کر دی گئی ہے اور نئی تاریخ کا اعلان بعد ازاں مناسب وقت پر کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ نیب نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو 26 مارچ کو طلب کر رکھا تھا اور اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی پیشی کے موقع پر کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔