اسلام آباد: قومی اسمبلی میں آج اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے جس کیلئے سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں , اجلاس دن 11 بجے اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں شروع ہو گا ۔
تفصیلات کے مطابق آج ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنانے کیلئے ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے جبکہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
اجلاس کے لیے ممبران قومی اسمبلی کو بھی ہدایت نامے جاری کیے گئے ہیں جس کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں مہمانوں کے داخلے پر پابندی ہو گی۔جبکہ ایم این ایز، وزرا کے سکیورٹی گارڈز اور ذاتی عملہ بھی ساتھ لانے پر پابندی ہو گی۔
ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی کے پیش نظر سیکریٹریٹ کی جانب سے تمام ارکان کی گاڑی میں آمد پر پابندی ہو گی ، گاڑی کو مخصوص پارکنگ میں کھڑا کرنا ہو گا اور پارلیمنٹ لاجز سے پارلیمنٹ ہاؤس تک شٹل سروس کا استعمال کیا جائے ۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کی پولیس سمیت رینجرز اور ایف سی اہلکاروں کی بڑی تعداد سیکورٹی فرائض انجام دے رہی ہے ۔ کسی بھی غیر متعقلہ شخص کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی تاہم ریڈ زون جانے والے ملازمین اپنے دفتر کا کارڈ دکھا کر جا سکتے ہیں۔
مزید برآں اسلام آباد ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنےکی اجازت صرف مارگلہ روڈ سے ہے، سرینا چوک، نادرا چوک، ایکسپریس چوک اور ایوب چوک ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے بند رہیں گے۔
واضح رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہونے والے آج قومی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈا میں تحریک عدم اعتماد کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔اجلاس میں اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی ۔
ملک جاری سیاسی کشمکش میں اس وقت وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کیلئے اپوزیشن نے اپنے گھوڑے بھگا رکھے ہیں ۔ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ ان کے نمبر پورے ہیں اور وہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے پر 200 کے قریب نمبر لا کر دکھائیں گے ۔
دوسری جانب حکومت بھی وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کو ناکام بنانے کیلئے پر اعتماد ہے۔