سرینگر / نئی دہلی : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا ایک اور سیاہ باب رقم ہو گیا ہے۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے 'این آئی اے' (NIA) کی خصوصی عدالت نے معروف آزادی پسند کشمیری رہنما اور 'دخترانِ ملت' کی سربراہ آسیہ اندرابی کو ایک جھوٹے اور من گھڑت مقدمے میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔
عدالت نے نہ صرف آسیہ اندرابی بلکہ ان کی قریبی ساتھیوں کو بھی کڑی سزاؤں سے نوازا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو بھی اسی مقدمے میں 30، 30 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان تمام رہنماؤں پر بھارت مخالف سرگرمیوں اور علیحدگی پسندی کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جنہیں کشمیری قیادت نے ہمیشہ مسترد کیا ہے۔
آسیہ اندرابی کو ان کی ہمت اور حق گوئی کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کی 'آئرن لیڈی' کہا جاتا ہے۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی جیلوں میں قید ہیں اور نامساعد حالات اور گرتی ہوئی صحت کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں۔ دخترانِ ملت کی سربراہ کے طور پر انہوں نے کشمیری خواتین میں آزادی کی شمع روشن کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار عدلیہ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے کشمیری قیادت کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس فیصلے کے بعد مقبوضہ وادی میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ بھارتی ہتھکنڈوں کا نوٹس لیں۔