کراچی: حکومت سندھ نے صوبے بھر میں پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کا اعلان کر دیا ہے، جو 26 مئی سے یکم جون 2025 تک جاری رہے گی۔ اس مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے ایک کروڑ 6 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
یہ اقدام حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا کے علاقوں لکی مروت اور بنوں میں پولیو کے دو نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے، جس سے سال 2025 میں ملک میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 10 تک پہنچ چکی ہے۔ سندھ میں اس سال اب تک 4 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق، 80 ہزار سے زائد تربیت یافتہ پولیو ورکرز اور 25 ہزار سے زیادہ سیکیورٹی اہلکار گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین پلانے کا عمل یقینی بنائیں گے۔ اس دوران بچوں کو وٹامن اے کے سپلیمنٹس بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ ان کی قوت مدافعت کو بہتر بنایا جا سکے۔
پولیو مہم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) سندھ کے ترجمان نے کہا کہ:
"پولیو کا خطرہ اب بھی موجود ہے، اور ہم ہر بچے تک پہنچنے کے لیے پُرعزم ہیں تاکہ پاکستان کو اس موذی مرض سے نجات دلائی جا سکے۔"
ای او سی کے مطابق یہ مہم فروری اور اپریل میں چلائی گئی پولیو مہمات کے علاوہ ہے۔ اس بار سندھ کے تمام 30 اضلاع میں 1,292 یونین کونسلوں میں پولیو ٹیمیں سرگرم ہوں گی، جنہیں مقامی انتظامیہ اور صحت کے اداروں کی مکمل معاونت حاصل ہو گی۔
اعلامیے میں عوام، والدین، اساتذہ، علماء، مشران اور میڈیا سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قومی سطح پر چلنے والی اس اہم مہم میں بھرپور تعاون کریں۔ اگر کوئی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے رہ جائے یا والدین کو کسی قسم کی معلومات درکار ہوں، تو وہ ہیلپ لائن 1166 یا واٹس ایپ نمبر 0346-7776546 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان دنیا کے صرف دو ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کا وائرس اب بھی موجود ہے۔ 2024 میں ملک بھر میں 74 کیسز رپورٹ کیے گئے تھے۔
دوسری جانب، خیبرپختونخوا حکومت نے بھی اسی ہفتے ایک پانچ روزہ مہم کا آغاز کیا ہے جس میں تقریباً 73 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم کا افتتاح چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ نے سروسز اسپتال میں کیا، جس میں صحت کے اعلیٰ حکام، یونیسیف اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔