اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں پاکستان کی مجموعی ریونیو وصولی 9.6 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 18 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ اضافہ ٹیکس اصلاحات، نئے محصولات اور اسٹیٹ بینک کے تعاون سے ممکن ہوا۔
تاہم، ملکی معاشی ماہرین نے اس دعوے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے "مصنوعی ریونیو گروتھ" قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں کوئی قابلِ ذکر توسیع نہیں ہوئی، بلکہ صرف تنخواہ دار طبقے اور صنعتی شعبے پر اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ اس وقت پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے، لیکن روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، لیکن پاکستان میں اس کے برعکس ڈالر مزید مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔