اسلام آباد : ایتھوپیا میں 12 ہزار سال سے خاموش پڑا آتش فشاں اچانک پھٹ گیا، جس سے نکلنے والی راکھ پاکستان کے بعد اب بھارت کے مختلف علاقوں تک پہنچ گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، آتش فشاں کی راکھ کا اثر پاکستان میں کم ہو چکا ہے، تاہم بھارت میں اس کے اثرات محسوس ہو رہے ہیں۔
پاکستان کے محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر نے بتایا کہ "پاکستان کی فضائی حدود اب صاف ہوچکی ہیں اور آتش فشاں کی راکھ بھارت کے ریاست راجستھان کی جانب بڑھ چکی ہے۔" ان کے مطابق، راکھ کا اثر پاکستان کے شمالی علاقوں تک نہیں پہنچا، کیونکہ یہ راکھ سندھ کے اوپر سے گزر کر بحیرہ عرب میں جا پہنچی تھی۔
محکمہ موسمیات نے کہا کہ منگل کی صبح 10 بجے کے قریب، گوادر کے جنوب میں 45 ہزار فٹ کی بلندی پر آتش فشاں کی راکھ دیکھی گئی۔ یہ راکھ اتنی بلند تھی کہ سیٹلائٹ کی تصاویر پر بھی اس کا اثر نظر نہیں آیا۔ اس کے علاوہ، یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان میں آتش فشاں کی راکھ کی موجودگی کے بارے میں ایڈوائزری ایوی ایشن کو جاری کی گئی۔
دوسری جانب، بھارتی محکمہ موسمیات نے بھی تصدیق کی ہے کہ آتش فشاں سے اٹھنے والی راکھ کے اثرات بھارت کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے ہیں۔ راکھ کے بادل دہلی، گجرات اور راجستھان تک پہنچ چکے ہیں، اور بھارتی حکام کے مطابق یہ بادل شام تک بھارت سے نکل جائیں گے۔ اس کے بعد راکھ کے بادل چین کی طرف بڑھنے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے قدرتی واقعات عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ماحول میں موجود مضر مادے اور آتش فشاں کی راکھ سے ہونے والی آلودگی فضائی معیار کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے انسانی صحت اور ماحولیاتی نظام پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔