Get Alerts

پاکستان نے افغانستان پر حملہ نہیں کیا،ملک کی پالیسی دہشت گردی کے خلاف ہے ، افغان عوام کے خلاف نہیں:ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان نے افغانستان پر حملہ نہیں کیا،ملک کی پالیسی دہشت گردی کے خلاف ہے ، افغان عوام کے خلاف نہیں:ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: پٌاکستان نے افغانستان پر حملہ نہیں کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی پالیسی دہشت گردی کے خلاف ہے اور افغان عوام کے خلاف نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بریفنگ میں کہا ہے کہ جنرل فیض حمید کا ٹرائل مکمل طور پر قانونی عمل کے تحت ہو رہا ہے اور اس پر قیاس آرائی نہیں ہونی چاہیے۔ جیسے ہی معاملہ حتمی نتیجے پر پہنچے گا، فوری اعلان کر دیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان جب بھی کارروائی کرتا ہے توا علانیہ کرتا ہے اور کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا۔ پاکستان کی پالیسی دہشت گردوں کے خلاف ہے اور افغان عوام کے خلاف نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی اور کوئی “گڈ” یا “بیڈ” طالبان نہیں ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ ریاست کی طرح فیصلے کرے اور نان اسٹیٹ ایکٹر کی طرح عمل نہ کرے۔ انہوں نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر فوری پابندی کی ضرورت پر بھی بات کی کیونکہ دہشت گردی کے متعدد واقعات میں انہی گاڑیوں کا استعمال ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک ریاست کی طرح ردعمل دیتا ہے اور “بلڈ اور بزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ حملے بھی ہوں اور تجارت بھی، یہ ممکن نہیں۔”

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ تحریک طالبان افغانستان اور ٹی ٹی پی میں کوئی فرق نہیں ہے اور پاکستان حق پر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ سیاسی جماعتوں اور دیگر عناصر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بیرون ممالک سے آپریٹ ہو رہے ہیں اور ریاست مخالف مہم چلا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 4 نومبر سے اب تک 4,910 انسداد دہشتگردی آپریشن کیے جا چکے ہیں، جن میں روزانہ اوسطاً 232 آپریشن شامل ہیں، اور اس دوران 336 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

ٹیگز: