Get Alerts

 13 سالہ قبضہ، 2000 ارب کا نقصان اور 27 ستمبر کا ملک دشمن مارچ

 13 سالہ قبضہ، 2000 ارب کا نقصان اور 27 ستمبر کا ملک دشمن مارچ

تحریر: حافظ سید عاصم علی 


31 مئی 2013، یہ وہ سیاہ تاریخ ہے جب خیبر پختونخوا کے معصوم لوگ جشن منانے میں مصروف تھے۔ پرویز خٹک نے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھایا۔ صوبے کے غیور اور بہادر عوام کو کیا معلوم تھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے مستقبل پر کلہاڑی مار لی ہے۔ جو حکومت اس معصوم اور محنتی قوم پر مسلط ہوئی، اس کا خمیازہ عوام آج 13 سال بعد بھی بھگت رہی ہے۔
یہ کہانی صرف ایک حکومت کی نہیں، یہ ایک صوبے کو یرغمال بنانے کی کہانی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق جب سے تحریکِ انتشار صوبہ خیبر پختونخوا پر قابض ہوئی ہے، تب سے اب تک چھ بار اسلام آباد جیسے پرامن اور خوبصورت شہر کو اجاڑ کر رکھ دیا گیا۔ ہر بار وفاق پر چڑھائی کا ڈرامہ رچایا گیا۔ ہر بار عوام کے درمیان صوبائیت، قومیت اور تعصب کا زہر گھولا گیا۔ صوبائی پولیس کو وفاقی پولیس کے سامنے لا کھڑا کیا گیا اور ریاست کو ریاست سے ہی لڑایا گیا۔ یہ احتجاج نہیں، یہ کھلم کھلا بغاوت ہے۔
اس بغاوت کی قیمت  پورے پاکستان نے ادا کی۔ 
صرف 2014 کے 126 دن کے دھرنے کا حساب لگایا جائے تو  ایک مستند رپورٹ کے مطابق اس ایک تماشے سے پاکستان کو تقریباً 547 ارب روپے کا براہِ راست نقصان ہوا۔ روپے کی قدر میں 4.3 فیصد تک کمی ہوئی اور سٹاک مارکیٹ گرنے سے 319 ارب روپے ڈوب گئے۔ اسی ملک دشمنی کی بدولت چینی صدر کا تاریخی دورہ منسوخ ہوا، جس سے سی پیک جیسا عظیم منصوبہ کئی سال پیچھے چلا گیا۔ یہ نقصان صرف اسلام آباد کا نہیں تھا، یہ خیبر پختونخوا کے ہر بچے کی جیب سے نکلا تھا اور بےچاری خیبر پختونخوا کی عوام یہ سمجھتی رہی کہ یہ حکمران ان کو تبدیلی اور کامیابی کے راستے پر لے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ وہ کس گہرے گڑھے میں دھنس رہے ہیں، اس کا انہیں اندازہ ہی نہ ہوا۔ تحریکِ انصاف کی حکومت سے پہلے دنیا بھر میں پٹھان قوم کو ایک باشعور، غیرت مند، محنتی اور مہمان نواز قوم کے طور پر جانا جاتا تھا۔ آج اسی قوم کو غربت، بدحالی، قرضوں اور دھرنوں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔آج خیبر پختونخوا کا ہر سرکاری ہسپتال دوائیوں سے خالی ہے، ہر سکول اساتذہ سے خالی ہے، مگر صوبے کا خزانہ اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے ہمیشہ بھرا رہتا ہے۔
اگر 2016، 2022 اور 2024 کے تمام دھرنوں، لانگ مارچوں اور احتجاج کے نقصانات کو جمع کیا جائے تو پاکستان کو براہِ راست 2000 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ اگر یہ 2000 ارب روپیہ خیبر پختونخوا کی عوام پر خرچ ہوتا تو آج صوبہ خیبر پختونخوا پوری دنیا میں ترقی یافتہ صوبوں کی فہرست میں شامل ہوتا۔ آج وہاں یونیورسٹیاں ہوتیں، آج وہاں موٹروے ہوتی، آج وہاں روزگار ہوتا۔ لیکن  حقیقت یہ ہے کہ آج خیبر پختونخوا کی عوام وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے۔
وہ دیکھ رہے ہیں کہ پنجاب میں مریم نواز شریف نے چند مہینوں میں کیا کر دیا۔ کسان کارڈ، ہمت کارڈ، اپنی چھت اپنا گھر سکیم، سٹوڈنٹس کے لیے لیپ ٹاپ، ہر ضلع میں الیکٹرک بس، سڑکوں کی تعمیر، مہنگائی پر کنٹرول اور سب سے بڑھ کر، سرکاری خزانے کو اپنی ذاتی جاگیر نہ سمجھنا۔ مریم نواز نے پونے تین کروڑ کا بل اپنی جیب سے ادا کر کے ثابت کیا کہ حکمران کیسے ہوتے ہیں۔
 دوسری طرف خیبر پختونخوا میں 13 سال سے ایک ہی جواب ہے "احتجاج کریں گے، اسلام آباد بند کریں گے"۔ جب بھی کوئی ان سے اصلاحات اور ترقی کی بات پوچھتا ہے تو پی ٹی آئی حکومت ملک مخالف پروپیگنڈے اور احتجاج کی دھمکیوں پر اتر آتی ہے۔

اسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی 27 ستمبر کا اعلان کردہ لانگ مارچ ہے۔ یہ لانگ مارچ عوام کے حقوق کے لیے نہیں، یہ اس صوبے کے بچوں کے مستقبل کے لیے نہیں، یہ صرف ایک شخص کی انا کی تسکین اور ملک میں بدامنی کو فروغ دے کر ملک کو یرغمال بنانے کی ایک اور کوشش ہے۔ یہ مارچ ملک دشمنی کے سوا کچھ نہیں۔ جب ملک معاشی طور پر مستحکم ہو رہا ہے، جب دنیا پاکستان پر اعتماد کر رہی ہے، تب ایک بار پھر اسی صوبے کے وسائل کو استعمال کر کے وفاق پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
مگر اس بار کہانی بدل چکی ہے۔ 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے عوام کا مکمل بائیکاٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب جاگ چکی ہے۔ عوام اب ان کے جھوٹے نعروں میں نہیں آئے گی۔ عوام اب پنجاب کی ترقی کی طرح ترقی کرنا چاہتی ہے۔ عوام نے اصل شعور دیکھ لیا ہے اور تعصبانہ اور انتشاری چال بازی کو مسترد کر دیا ہے۔

قوم اب اس منفی پروپیگنڈے کو رد کر کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف جیسی خدمت گزار حکمران چاہتی ہے، نہ کہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر ملک کو برباد کرنے والے۔پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد!


نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے۔

ٹیگز: