Get Alerts

فلسطین نہ لبنان صرف اقتدار

فلسطین نہ لبنان صرف اقتدار

تحریر: طارق وسیم

ایران امریکہ مذاکرات  کے معاملے میں  امریکہ کا کہنا ہے پاکستان نے بہت مخلصانہ کوششیں کی ہیں لیکن ایران میں اقتدار پر قبضے کی لڑائی  جاری ہے ۔ عباس عراقچی عمان اور روس کے دورے پر ہیں رپورٹ کے مطابق اس سے قبل انہوں نے چینی قیادت سے بھی طویل گفت و شنید کی تھی ۔ایران کا کہنا ہے کہ اس کا سمندری محاصرہ ختم کیا جائے ،منجمد کیے گئے 11 ٹریلین ڈالرز واپس کیے جائیں ،فی الحال ایرانی رجیم کو نہ تو غزہ میں کوئی دلچسپی ہے نہ لبنان ۔دوسری طرف برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کی تیاری کر رہی ہے۔
یورپ اور امریکہ نے پاسداران انقلاب کا نام لے کر ہی اس قبل بھی ایران پر مختلف اقتصادی اور حربی پابندیاں لگا رکھی ہیں، چند روز قبل امریکہ کی جانب سے ان میں اضافہ بھی کیا گیا ہے ،پاسداران  کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد ایرانی حکومت کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔ ان سے کسی بھی قسم کے مذاکرات یا بات چیت  کا دروازہ بھی قانونی طور پر بند ہو جائے گا البتہ بیک چینل ڈپلومیسی جار رہ سکے گی ۔
امریکہ اور یورپ  دنیا بھر میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث حکومتوں اور گروہوں کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرتے رہتے ہیں ۔ ایران ،افغانستان ،شمالی کوریا  اور روس اس کی بڑی مثالیں ہیں ،دلچسپی کی بات یہ ہے کہ جس ملک پر  پابندیاں عائد کی جاتی ہیں وہاں بر سراقتدار ٹولہ زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے ،دنیا کی بد ترین حکومت افغانستان میں طالبان کی صورت موجودہے جس پر مختلف پابندیاں بھی  عائد ہیں ،لیکن افغان طالبان عوام کا جینا دوبھر کر کےاقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔دنیا بھر سے امداد   لیتے ہیں ،ڈرگز کا دھندہ  کرتے ہیں،بھارتی پراکسی کے طور پر آپریٹ کرتے ہیں ،پاکستان میں دہشت گردی کراتے ہیں ۔ 
عملی طور پر کوئی بھی فعال فوجی قوت   24 سے 72  گھنٹوں میں افغانستان کو فتح کر سکتی ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے،شمالی کوریا میں کم جان پورے طمطراق سے بر سر اقتدار  ہیں ،جنوبی کوریا میں         اوسط ماہانہ آمدنی  2800ڈالر جبکہ شمالی کوریا میں 60 ڈالر ہے، روس دنیا کی دوسری بڑٖی طاقت سمجھا جاتا ہے لیکن ابھی تک یوکرائن  سے جنگ نہیں جیت سکا ۔  معاشی حالات بھی دگر گوں ہیں ،ایران کی کرنسی شدید ترین گراوٹ کا شکار ہے ۔اگر ان  تمام ممالک کا جائزہ لیا جائے تو  ایک بات مشترک ہے ، اور وہ ہے آمریت،ان تمام ممالک میں عوامی امنگوں کے مخالف  مخصوص  گروہ بر سر اقتدار جنہیں ہر قسم کی پابندیوں کا سامنا ہے لیکن ان کے اقتدار کا خاتمہ نہیں کیا جاتا ۔
عوام اتنے پس چکے ہیں کہ وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھا نہیں پاتے ،،امریکہ اور اتحادی ان ممالک کو غیر  جمہوری قرار دیتے ہیں لیکن یہاں کبھی عوامی حکومت نہیں بننے دیتے   ،ایران میں بھی ایک مرتبہ پھر وہی عمل دہرایا جارہا ہے ،عباس عراقچی  عمان کی قیادت کو اس بات پر راضی کر  رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ان دونوں ممالک کے پاس ہی رہے ۔  ماسکو جانے کا مقصد یہ ہے کہ روسی  ان کاا فزودہ اور غیر افزودہ یورینیم  ایک  خاص  مدت کے لیے سنبھال کر رکھ لیں ،ایرانی وزیر خارجہ  عمان، ماسکو سے واپسی پر تیسری مرتبہ پاکستان آئیں گے ۔ اگر وہ عمان کو  منانے میں کامیاب ہو گئے ،،تو  اپنا یورینیم  بھی روس کے حوالے کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے ۔ایرانی قیادت  تسلسل سے مطالبہ کر رہی ہے کہ ایران پر دوبارہ جنگ مسلط نہیں کی جائے گی  تاکہ ان کے اقتدار کا دورانیہ طویل ہو سکے اور اب جبکہ زیادہ تر قیادت ختم ہو چکی ہے ،  مجتبیٰ خامینائی کے حوالے سےبھی خبریں اچھی نہیں ہیں ۔قالیباف او ر پزشکیان  گروپس  چاہتے ہیں کہ وہ طویل عرصہ تک اقتدار  میں رہیں ۔پاسداران انقلاب پر پابندی ضرور لگے گی لیکن  یہ سارا عمل مکمل ہونے کے بعد کیونکہ یہی امریکہ اور یورپ کا طریقہ واردات ہے۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

ٹیگز: