Get Alerts

اپوزیشن کی حالت زار…

اپوزیشن کی حالت زار…

کسی بھی جمہوری نظام میں حکومت سے ہی عوام کو امیدیں ہوتی ہیں لیکن اپوزیشن کا وجود بھی جمہوری معاشرے میں عوام کے لیے روشنی کی امید ہوتی ہے۔ لیکن ہماری اپوزیشن اپنے اندرونی خلفشار کی وجہ سے اپنے مقصد سے ہٹ کر تقسیم در تقسیم کی راہ پر گامزن ہے۔ اس سے کہیں بڑھ کر ایک بڑی جماعت اپنے اندر ’’میں‘‘ کی لڑائی میں الجھی ہوئی ہے۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم انا کا شکار ہو چکا ہے اور اس کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ اس کا بیانیہ تقسیم ہو چکا ہے اور یکسوئی یا ایک آواز کے بجائے ہر بندہ اپنی اپنی ڈفلی بجا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن سے جو آوازیں آرہی ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ اس پارٹی کی حد تک اپوزیشن پارلیمنٹ اور بیرون پارلیمنٹ میں تقسیم ہوا چاہتی ہے۔ شہباز شریف قومی اسمبلی میں تو اپوزیشن لیڈر ہیں ہی لیکن ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کے صدر بھی ہیں اور اسی وجہ سے وہ پارلیمنٹ کے باہر بھی اپوزیشن کی سیاست کو خود ہی لے کر چلنا چاہتے ہیں لیکن یہاں انہیں مزاحمت کا سامنا ہے۔ مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کی اکثریت شہباز شریف کے مفاہمتی بیانیہ کے ساتھ اور اداروں سے ٹکراؤ کے خلاف ہے کیونکہ جنہوں نے پارلیمانی سیاست کرنی ہوتی ہے ٹکراؤ سے ان کے مسائل میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن ملک کی دوسری بڑی جماعت ہے لیکن اس کی باگیں مولانا فضل الرحمان کے ہاتھوں میں ہیں جو کہ حلقے کے عوام کی طرف سے مسترد ہونے کے بعد پارلیمنٹ سے انتقام کے درپے ہیں۔ نوابزادہ نصراللہ کے زمانے سے دیکھتے آئے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد کا کینوس بڑا دکھانے کے لیے چھوٹی اور پارلیمان میں حصہ نہ رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو بھی اس میں شامل کیا جاتا ہے۔ لیکن مولانا کی سربراہی میں یہ واحد اتحاد ہے جس میں سے ملک کی تیسری بڑی پارلیمانی اکثریت اور سندھ میں حکومت رکھنے والی جماعت پیپلز پارٹی کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا گیا اور یہی حال خیبر پختون خوا میں اثر رکھنے والی عوامی نیشنل پارٹی کا کیا گیا۔ حیف ہے کہ ان دو پارٹیوں کو دیس نکالا محض اپنی انا کی تسکین کے لیے دیا گیا۔مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی پیپلز پارٹی اور اے این پی کی پی ڈی ایم میں شمولیت کی سر توڑ کوششوں کو بھی رد کر دیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن کے کمزور ہونے سے تقویت حکومت کو ملتی ہے لیکن محض ذاتی ایجنڈے کے لیے اس بنیادی نکتے کو بھی نظر انداز کر کے اپوزیشن کو تقسیم در تقسیم کر دیا گیا۔ بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ بیانیے کی تقسیم سے مسلم لیگ بھی اندرونی طور پر کمزور ہوئی۔ ایک سیاسی ورکر ہی جانتا ہے کہ بلدیاتی ادارے پارلیمانی سیاست کی بنیاد ہوتے ہیں لیکن مسلم لیگ کی اندرونی کشمکش کی وجہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کے دیگر عوامل کے علاوہ مسلم لیگ ن کی اختیارات کی اندرونی رسہ کشی بھی ایک بڑی وجہ تھی۔ یہ بھی اچنبھے کی بات تھی کہ پارٹی ٹکٹس پر مہر اور دستخط تو پارٹی سربراہ شہباز شریف کے ہیں لیکن ان کی منظوری کہیں اور سے ہوئی۔ اب حکومت بلدیاتی الیکشن کرانے کا سوچ رہی ہے لیکن اگر مسلم لیگ ن میں بیانیے کی جنگ یوں ہی جاری رہی تو ان انتخابات کے نتائج بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے کسی طرح مختلف نہ ہوں گے۔ یاد رہے کہ ایک وقت تھا کہ اختلاف اتنے بڑھ گئے کہ شہباز شریف پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہونے پر تیار ہو گئے تھے۔ اور اس کی وجہ تھی ان کو نظر انداز کر کے ان سے بالا ہی بالا فیصلے۔ وہ کیفیت اب بھی ویسی ہی ہے لیکن بس ذرا مصلحتاً خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
شہباز شریف کو دیگر گلے شکووں کے علاوہ یہ بھی شکایت تھی کہ پی ڈی ایم کے اسمبلیوں کے استعفے اور اسلام آباد دھرنے کی حکمت عملی تو پروان نہ چڑھ سکی اور لیکن ان شرائط کی خاطر اتحاد توڑنا گوارہ کر لیا۔ لیکن حقیقت ہے کہ نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ 
اپوزیشن اتحاد کراچی میں جلسہ کرنے جا رہی ہے لیکن چند دن پہلے سندھ کی مسلم لیگ انتشار کا شکار ہے اور سندھ کے جنرل سیکرٹری مستعفی ہو چکے ہیں۔ کہا جارہا کہ ابھی مزید استعفے آئیں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس استعفا کی وجہ بھی پارٹی کی اندرونی تقسیم ہے۔ اب یہ تقسیم کیا رنگ لائے گی اس کے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ یہ اقتدار کی جنگ ہے اور اس میں باپ بیٹے کا لحاظ نہیں کرتا اور بھائی بھائی کا اب دیکھیں کون چت ہوتا ہے؟
مولانا فضل الرحمان بھی جانتے ہیں کہ وہ اس وقت تک مسلم لیگ کے گلے کا ہار بنے رہیں گے جب تک ان کی ضرورت ہو گی۔ جس دن یہ ضرورت ختم ہوئی تو تو کون اور میں کون۔ اس حوالے سے مولانا فضل الر حمان کو پیر صاحب پگاڑا کا مسلم لیگ ن کے حوالے سے گلے پڑنے اور پاؤں پڑنے والا مقولہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔ 
ایک وقت تھا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن یک جان دو قالب تھے لیکن بلاول بھٹو نے بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت پر شب خون مار کر ساری لیڈر شپ کو اپنی جماعت میں شامل کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ سیاست بہت بے رحم ہوتی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بلاول بھٹو کے جنوبی پنجاب کے دورے میں اس طرح کی مزید شمولیت بھی ہوں گی اور الیکشن کے قریب سدا بہار ہجرت پسند پرندے ایک بار پھر نئے گھر آباد کرنے کے لیے پر تولیں گے۔ 
اس تمام صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اپوزیشن اور مسلم لیگ ن کی تقسیم در تقسیم کا فائدہ وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کو ہی ہو گا۔ مستقبل قریب میں اپوزیشن کے متحد ہونے کا کوئی امکان نہیں اس لیے حکومت کے لیے راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔
قارئین اپنی رائے 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل ، بی آئی پی یا ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔

ٹیگز: