راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے واضح ہدایت دی ہے کہ پارٹی کو ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے، کیونکہ اس سے ناجائز نااہلیوں کو جواز فراہم ہوگا۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ خان کا کہنا تھا کہ پارٹی اگر کسی کشمکش کا شکار ہے تو وضاحت کرے، لیکن جب ہماری ملاقات بانی سے ہوئی تو انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کا مؤقف تھا کہ ان انتخابات میں حصہ لینے سے نہ صرف کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس سے پارٹی کو نقصان پہنچے گا اور الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی نااہلیاں بھی باضابطہ تصور کی جائیں گی۔
علیمہ خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلمان اکرم راجا سے ان کی کوئی تلخ کلامی نہیں ہوئی، وہ ہمارے وکیل اور فیملی کی طرح ہیں۔ ان کے مطابق سلمان اکرم راجا کا معاملہ سیاسی کمیٹی سے متعلق ہے اور بہتر ہوگا کہ اسی سے متعلقہ افراد سے اس بارے میں سوال کیا جائے۔
علیمہ خان نے گرفتاریوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میرے بچوں کو اٹھانے کا کوئی جواز نہیں تھا، اگر بات گرفتاری کی ہے تو مجھے بھی گرفتار کر لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت خوفزدہ ہے اور بچوں سے بھی ڈر رہی ہے۔
ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا بانی پی ٹی آئی اور پارٹی کا ضمنی الیکشن سے متعلق مؤقف مختلف ہے؟ علیمہ خان نے سخت ردعمل دیا اور کہا کہ بانی اگر فیملی کے ذریعے کوئی پیغام بھیجتے ہیں تو وہ ان کا مؤقف ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال کے انداز کو غیر مناسب اور "شیطانی" قرار دیا۔
عظمیٰ خان نے گفتگو کے اختتام پر ایک بار پھر مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے صاف کہا تھا کہ موجودہ حالات میں الیکشن میں جانا غلط فیصلہ ہوگا کیونکہ ہمیں جیتنے نہیں دیا جائے گا اور سلیکٹڈ امیدواروں کو کامیاب کرایا جائے گا۔