اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 9 مئی کو منظم منصوبہ بندی کے تحت ریاستی اداروں پر حملے کیے، اور اس تمام منصوبے میں بانی پی ٹی آئی کی مشاورت شامل تھی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی کا سیاسی طریقہ کار ہی انتشار اور فتنہ انگیزی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی سیاسی جماعت نے باقاعدہ طور پر ریاستی اداروں کے خلاف حملے کیے اور اسے اپنی "سیاسی فتح" کے طور پر پیش کیا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں دفاعی تنصیبات، شہدا کی یادگاروں اور قومی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کی تمام ویڈیوز اور شواہد موجود ہیں، اور ان واقعات میں ملوث افراد کو عدالتوں نے سزائیں سنائیں۔
طلال چودھری کے مطابق، ماضی میں اداروں کے اندر سے سہولت کاری کی جاتی رہی، لیکن اب جب وہ سہولت کاری ختم ہوئی تو انصاف ہوتا دکھائی دیا۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ علیمہ خان نے اپنے بچوں کو بیرون ملک کیوں بھجوایا؟ کیا بانی پی ٹی آئی کا بھانجا ہونا قانون سے بالاتر ہونے کی دلیل ہے؟
وزیر مملکت نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کو خطوط لکھ کر ملک دشمنی کا مظاہرہ کیا، اور 9 مئی کے احتجاج کے لیے اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں اہداف طے کیے گئے تھے، جو ایک منظم بغاوت کی کوشش کے مترادف تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی عدالتی فیصلوں پر جھوٹا واویلا کر رہی ہے تاکہ قوم کو گمراہ کیا جا سکے، لیکن قوم 9 مئی جیسے واقعات کو کبھی نہیں بھولے گی۔