Get Alerts

پاکستان کا سلامتی کونسل پر تنازعات سے جنم لینے والے غذائی بحرانوں کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے پر زور

پاکستان کا سلامتی کونسل پر تنازعات سے جنم لینے والے غذائی بحرانوں کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے پر زور

گزشتہ برس 266 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کاشکار:مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا2026 گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز پر تشویش کا اظہار

نیویارک :اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لیے پیشگی سفارت کاری، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے 2026 گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز پر تشویش کا اظہار کیا، جس کے مطابق دنیا بھر میں غذائی عدم تحفظ کے بنیادی محرکات میں تنازعات اور تشدد نمایاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس 266 ملین افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہا، جبکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران شدید بھوک کے واقعات دگنے ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار 70 فیصد افراد کمزور یا تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے غزہ، یمن، سوڈان، جنوبی سوڈان اور ہیٹی سمیت مختلف تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جاری تشدد انسانی بحرانوں اور غذائی قلت کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال کو خاص طور پر تشویشناک قرار دیتے ہوئے انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر بھی توجہ دلائی۔

پاکستانی مستقل مندوب نے کہا کہ انسانی امداد سیاسی حل کا متبادل نہیں، پائیدار غذائی تحفظ کے لیے تنازعات کا سفارت کاری، مکالمے اور پرامن ذرائع سے حل ضروری ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ صرف بھوک کے نتائج سے نمٹنے کے بجائے ان تنازعات کی روک تھام اور حل کے لیے بھی اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرے جو غذائی بحرانوں کو جنم دیتے ہیں۔

ٹیگز: