Get Alerts

محبت اور احساس سے لبریز شاعر منیر نیازی کی 19 ویں برسی

محبت اور احساس سے لبریز شاعر منیر نیازی کی 19 ویں برسی

لاہور : اردو اور پنجابی شاعری کے منفرد اسلوب کے مالک منیر نیازی کی آج 19 ویں برسی ہے۔ ان کے اشعار میں ماضی کے گمشدہ مناظر، رشتوں کے انحراف کا دکھ اور تنہائی کے جذبات کی گہرائی جھلکتی ہے، جو آج بھی قارئین کے دلوں کو چھوتی ہے۔

منیر نیازی کا شمار اردو اور پنجابی کے بڑے شعراء میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو ادب کو نئی جہت دی۔ ان کا جنم 9 اپریل 1928ء کو ضلع ہوشیار پور میں ہوا، اور قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ یہاں آ کر انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔

ان کے اردو شاعری کے 13 مجموعے شائع ہوئے، جن میں بے وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، سفید دن کی ہوا اور ماہ منیر جیسے اہم مجموعے شامل ہیں۔ پنجابی میں تین اور انگریزی میں دو مجموعے بھی شائع ہوئے۔ منیر نیازی نے جنگل سے وابستہ علامات کو اپنی شاعری میں بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا اور ان کی شاعری میں ماضی کی دھندلاہٹ میں گم کچھ مناظرات اور کھوئے ہوئے رشتوں کی آہٹیں اس طرح محسوس ہوتی ہیں کہ پڑھنے والا ان کا پیچھا کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ منیر نیازی 26 دسمبر 2006ء کو لاہور میں وفات پا گئے، لیکن ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے اور ہر نسل کے دلوں میں بیتی ہوئی محبتوں اور یادوں کو دوبارہ زندہ کرتی ہے۔

ٹیگز: