دوحہ : قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت اسرائیلی طرز کی ظالمانہ حکمت عملی اپنا رہی ہے، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں جہاں روزمرہ زندگی غزہ کی طرح متاثر ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ نظریاتی وژن ہے، جس میں مسلمانوں کو سکیورٹی اور جغرافیائی خطرہ سمجھا جاتا ہے، اور آر ایس ایس کی قیادت صیہونی طرز حکومت سے متاثر ہے۔ دونوں حکومتیں نسلی تفاخر کی شکار ہیں۔
الجزیرہ نے یہ بھی بتایا کہ مودی حکومت نے غزہ کی نسل کشی میں اسرائیل کی فوجی امداد فراہم کی اور اسرائیلی نگرانی کے آلات کو بھارتی سیکیورٹی ڈھانچے میں شامل کیا۔ نومبر 2019 میں، امریکہ میں بھارتی قونصل جنرل نے مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کا ماڈل اپنانے کا اعلان کیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2019 کے بعد سے مقبوضہ کشمیر مسلسل فوجی محاصرے میں ہے، جس سے شہری آزادیوں پر قدغنیں لگ گئی ہیں اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل کے سیکیورٹی اور انتظامی ماڈل کو شامل کیا ہے، جس سے علاقے کی حالت مزید بگڑ چکی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، "بلڈوزر جسٹس" کی پالیسی، جس کے تحت غزہ کی طرح بھارت میں بھی سینکڑوں مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو بغیر نوٹس کے تباہ کیا گیا، ماورائے عدالت سزا کے مترادف ہے۔ ان کارروائیوں کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اظہار رائے اور پرائیویسی کو سختی سے محدود کر دیا ہے، اور وہاں غزہ کی طرز پر چیک پوسٹیں، چھاپے، رابطوں کی بندشیں اور مستقل ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں عوام کی روزمرہ زندگی متاثر ہو چکی ہے۔
الجزیرہ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بھارت میں جدید جاسوسی آلات کا استعمال اختلافی رائے رکھنے والوں کی نگرانی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ہندوتوا نظریہ اقلیتوں کو سکیورٹی کے خطرے کے طور پر پیش کر رہا ہے، جس سے بھارتی معاشرتی تقسیم مزید گہری ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں عالمی سطح پر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بڑھتی ہوئی تشویش کا ذکر کیا گیا ہے۔