تحریر: طارق وسیم
بھارت میں ہونے والا ٹی 20 ورلڈ کپ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے، یہ سلسلہ شروع ہوا تھابنگالی میڈیم پیسر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز کی جانب سے خریدے جانے پر،آر ایس ایس اور شیو سینا کا موقف تھا کہ بنگلہ دیش میں ہندو مارے جارہے ہیں اور بھارتی کرکٹ فرنچائز بنگلہ دیشی کرکٹرز کو لیگ کھیلنے کے لیے بلا رہی ہے۔
بھارتی کرکٹ بورڈ نے اس دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے مستفیض کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے ڈراپ کرنے کے احکامات جاری کیے جو ٹیم کے مالک شاہ رخ خان نے فوری تسلیم کر لیے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اس پر سخت موقف اپناتے ہوئے بھارتی کرکٹ بورڈ پر کڑی تنقید کی اور اعلان کیا کہ بھارت میں بنگلہ دیشی کھلاڑی محفوظ نہیں ہیں۔ ہماری قومی کرکٹ ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے وہاں نہیں جانا چاہتی۔ بنگلہ دیش کے میچز کسی نیوٹرل وینیو جیسے سری لنکا منتقل کیے جائیں،پاکستان نے آفر دی کہ وہ بنگلہ دیش کی میچز کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے،معاملہ چلتا رہا ۔
بھارتی کرکٹ بورڈ اور مودی حکومت نے گودی میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے بنگلہ دیش کا تمسخر اڑایا بنگلہ دیش نے بارہا کہا کہ کھیل کو سیاست کی نذر مت کریں،ہمارے میچز کسی اور جگہ منتقل کر دیں لیکن بی سی سی آئی کا سربراہ جےشاہ جو بھارتی وزیر امیت شاہ کا بیٹا اور باقاعدہ مینٹلی ریٹا رٹڈ شخص ہے اس معاملے پر سیاست کرتا رہا یہاں تک کہ بنگلہ دیش نے ورلڈ کپ کے لیے اپنی ٹیم بھیجنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان اس معاملے پر بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہے۔
یکم فروری کو پاکستان کی ورلڈ کپ کمپین شروع ہونی ہے،ٹیم نے کولمبو جانا ہے سکواڈ کا اعلان ہو چکا ہے ،وزیر اعظم اور محسن نقوی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعدچیئرمین پی سی بی نے بیان دیا ہے کہ پیر کو اعلان کیا جائے گا کہ پاکستان ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے لیے ٹیم بھیجے گا یا نہیں۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق بائیکاٹ کے علاوہ ایک آپشن بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر میچز کھیلنے اور بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا بھی ہے، فیصلہ کچھ بھی ہو پاکستانی قیادت کو ایک بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ ڈھاکہ فال کے زخم ابھی بھرے نہیں۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے چاہنے والوں اور عوامی لیگ کے ووٹرز کی تعداد اب بھی 40 فیصد کے قریب ہے۔ پاکستان کو بنگالی عوام کے دل میں جگہ بنانی ہے جس کے لیے ان کے جذبات کا احترام ضروری ہے ۔ اس وقت بنگلہ دیش کی 70 فیصد سے زیادہ آبادی میں بھارت کے خلاف شدید غم و غصہ ہے وہ سب پاکستان کو بڑے بھائی کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔ ڈھاکہ کی گلیوں میں 1971 کی تقسیم کو بڑی غلطی قرار دیا جا رہا ہے۔ بنگالی مشیر کھیل نذر الاسلام نے اپنے ملک میں بھارت کے سپورٹس چینل بند کرنے کا اعلان کیا ہے،ممکنہ طور پر بنگلہ دیش انڈر 19 ورلڈ کپ میں بھارت سے ہونے والے میچ کا بائیکاٹ کر سکتا ہے۔
یہ سب کچھ وہ اکیلے نہیں کر رہے،انہیں پاکستان اور چین سے بے حد توقعات ہیں۔چین بنگلہ دیش میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کیے بیٹھا ہے اور پاکستان سے ان کا رشتہ لازوال ہے۔ ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم بھیجنے سے پہلے تصور کرلیجیے گا کہ 1940 کے انتخابات میں بنگالیوں نے مسلم لیگ اور قائد اعظم کو 95 فیصد حمایت دی تھی،وہی بنگالی آج بھی آپ سے محبت کے رشتے استوار کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ پاکستان میں چند ایسے لوگ ضرور موجود ہیں جو شاید ٹیم کو ورلڈ کپ کھیلتا دیکھنا چاہیں لیکن ان کی تعداد بہت ہی کم ہے،چند کرکٹرز جن پر کرپشن،میچ فکسنگ اور فراڈ کے الزامات ہیں وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان ورلڈ کپ کھیلے لیکن وہ ایسا حب الوطنی میں نہیں کر رہے بلکہ بھارت کو خوش کرنا ان کا بنیادی ایجنڈہ ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میں حصہ نہ لینے سے کرکٹ کی دنیا میں تین اہم پیغامات جائیں گے ،پہلا پیغام ہوگا کہ آئی سی سی بھلے بھارت کی بی ٹیم ہے لیکن اسے چیلنج کیا جاسکتا ہے ،دوسرا پیغام ہوگا کہ ایک نئی آئی سی سی بھی بن سکتی ہے جبکہ تیسرا اور سب سے اہم میسج ہوگا کھیل کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کا،بھارت سے صرف ہریانہ کو نکال دیا جائے تو پیچھے ایڈز اور ہیپا ٹائٹس سی کے مریض ہی بچتے ہیں جن کا کھیل سے کوئی تعلق نہیں۔یہ وہ ملک ہے جس کے بلے باز سنیل گواسکر نے 1975 کے ورلڈ کپ میں 60اوورز کھیل کر 36 رنز بنائے تھے،پاکستان بھارت سے نہرو کپ جیت کر آیا تو کپتان عمران خان سے پوچھا گیا کہ آپ نے کھلاڑیوں کا معاوضہ بڑھانے کی بات کی ہے جبکہ پڑوس میں تو کرکٹرز کو آپ سے آدھی میچ فیس دی جاتی ہے،جس پر عمران نے فوری جواب دیا کہ ان کی پرفارمنس بھی تو ویسی ہی ہے،وہ کرکٹ کھیلنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔
بھارتی کاروباری طبقے نے کھیل کو بدترین نقصان پہنچایا ہے،1983 میں محمد اظہر الدین کا انگلینڈ کے خلاف ڈیبیو ہوا اور انہوں نے تین ٹیسٹ میچز میں مسلسل 3 سنچریاں جڑ دیں اور نیا ورلڈ ریکارڈ بنا ڈالا،یہ وہ وقت تھا جب بھارت نے کرکٹ اور کرکٹرز کو مارکیٹ کرنے کا فیصلہ کیا کھلاڑیوں کی غیر ضروری تشہیر کی گئی،انتہائی نکمے کرکٹرز کو بہترین صلاحیتوں کا حامل قرار دیا گیا،بھارتی عوام کے پاس انٹر ٹینمنٹ کے لیے صرف فلمیں ہوا کرتی تھیں،انہیں ایک نئی تفریح مل گئی۔ کھیل کی بنیادیات سے انہیں نہ پہلے کچھ لینا دینا تھا نہ آج ہے یہی وجہ ہے کہ باسط علی کو کہنا پڑا تھا کہ پڑوس میں تو بلے باز 50 رنز کر دے تو اس پر فلم بن جاتی ہے۔
باسط علی کی بات کا ثبوت کچھ یوں ہے کہ دنیا کا سست ترین بلے باز سنیل گواسکر 12 سال ون ڈے کرکٹ کھیلنے کے باوجود کوئی سنچری نہیں بنا سکا تھا لیکن بھارتی مارکیٹ اسے ایک گریٹ کے طور پر پیش کرتی تھی، اپنے دعوؤں میں وزن لانے کے لیے ضروری تھا کہ گواسکر سے سنچری کرائی جائے،جس کے لیے 1987 کے ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کا انتخاب کیا گیا،پہلی مرتبہ کرکٹ گراؤنڈ میں باؤنڈریز 90 میٹر کے بجائے 70 میٹر کی کر دی گئیں۔ نیوزی لینڈ نے 4 مرتبہ گواسکر کو آؤٹ کیا لیکن امپائر ٹس سے مس نہ ہوئے، گواسکر نے سنچری کی کراؤڈ تالیاں بجاتا رہا اور کیوی کرکٹر ہنستے رہے۔ اس کے بعد گواسکر کو فوری ریٹائر ڈکردیا گیا کیونکہ وہ 40 سال کا ہو چکا تھا ،ایسا ہی کھیل 2011 کے ورلڈ کپ میں کھیلا گیا جب ٹورنامنٹ جیت کر سچن ٹنڈولکر کو فیئر ویل دیا گیا۔ ٹورنامنٹ کیسے جیتا گیا تھا،سیمی فائنل میں پاکستان کیسے ہارا یہ آپ شاہد آفریدی سے پوچھ سکتے ہیں۔ بھارت نے کھیل کا بیڑہ غرق کر دیا ہے 50 میٹر کی باؤنڈری،سلو میڈیم پیس باؤلنگ،میڈیا پروجیکشن اور جھوٹ در جھوٹ یہ ہے بھارتی کرکٹ کا ماڈل جسے اپنانے پر آئی سی سی نے سب کو مجبور کر رکھا ہے ،موقع اچھا ہے ایک تیر سے کئی شکار کیے جا سکتے ہیں۔ سیاسی فائدہ اٹھائیں،کھیل کو اس کی حقیقی حالت میں بحال کریں اور بنگلہ دیش کی عوام کو یقین دلائیں کہ آپ ڈبل نہیں کھیل رہے بلکہ ان کے ساتھ ہیں۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔