Get Alerts

’تجھے اپنا اسمٰعیل قر با ن کر نا ہو گا‘

Dr Ibrahim Mughal, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

اور پھر نمر ود کی آ گ والے واقعہ اور اپنی ذوجہ اور بچے کو بیا با ن میں چھو ڑنے وا لے واقعہ کے بعد ربِ دو جہا ں نے اپنے اولا لعز م پیغمبر حضر ت ابر اہیم  ؑ سے تیسر ی قر با نی ما نگی۔ خو اب میں حکم دیا کہ تجھے اپنے اسما عیل کو قر با ن کر نا ہو گا۔ چنا نچہ با پ اور بیٹا دو نو ں تیا ر ہو گئے۔ با پ نے چھری چلا ئی مگر ربِ دو جہا ں نے مینڈھا بھیج کر بیٹے کو بچا لیااور کہا کہ اے ابرا ہیم تو نے اپنا خو ا ب سچ کر دکھا یااور ہم نیک لو گو ں کو ایسا ہی بد لہ دیتے ہیں۔ 
قا رئین کرا م،آپ سب جا نتے ہیں کہ ہم مسلما ن ہر سا ل عیدِالاضحی کے مو قع پر اس عظیم قر با نی کی یا د تا زہ کر تے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ رب ِدو جہا ں کی قر بت ہمیشہ سے قر با نی کی متقاضی ہے۔ مگر یہ کا فی نہیں ہے۔ حقیقت میں حضر ت ابرا ہیم  ؑکوحضر ت اسمعیل ؑاپنی پو ری متا عِ حیا ت میں سب سے ز یادہ عزیز تھے۔ چنانچہ ربِ دو جہا ں کی قر بت ہم سے بھی اپنی سب سے ز یا دہ عز یز ہستی یا شے کی قربانی کی متقاضی ہوتی ہے۔ اسے خدا کی راہ میں قربان کئے بنا اس کا قرب نصیب نہیں ہوتا۔ کسی کا مال، کسی کا عہدہ، کسی کی اولاد اور کسی کا نفس اس کی آزمائش ہیں۔ دنیا میں آزمائش انہی کے لئے ہے جنہیں خدا پاک پسند کرتا ہے۔ اور قربانی اور صبر وہی کرتے ہیں جو خدا پاک کو چاہتے ہیں۔ تاہم اگر ہم ملکی سطح پر اپنے جذبہِ قربانی کی با ت کر یں تو یہ حقیقت بین الاقوامی طور پر تسلیم شد ہ ہے کہ پا کستان کا شما ر چو ٹی کے اْن پا نچ مما لک میں ہو تا ہے جو چیریٹی اور دیگر رفا ہی کا مو ں میں پیش پیش ہو تے ہیں۔ تا ریخ شا ہد ہے کہ جب بھی کبھی وطنِ عز یز کو کسی نا گہا نی آفت کا سا منا کر نا پڑا تو یہا ں کے عو ام نے حسبِ تو فیق مصیبت زد گا ن کی مد د کر نے میں کو ئی کسر نہ چھو ڑی۔بے شک یہ امر اطمینان بخش ہے کہ کو رونا وا ئر س کی لا ئی وبا کے ان دنو ں میں ہما رے عو ام اسی رو ایتی جذ بے سے پیش پیش نظر آ رہے ہیں۔ تاہم دوسر ی جانب اگر حکو مت کے کردار کی بات کی جا ئے تو کورونا وائرس کے نئے کیسز میں مسلسل اضافے کے ساتھ یہ حقیقت تشویش کا موجب ہے کہ ملک میں ایک عر صہ سے جاری لاک ڈاؤن کے باوجود ابھی تک کم آمدنی والے طبقے کے لیے امداد کے منصوبے پر عمل شروع نہیں کیا جاسکا۔ بظاہر سب سے بڑی رکاوٹ ایسا نظام وضع کرنے میں درپیش ہے جو آبادی کے اس حصے کی نشان دہی کرے جس کے لیے یہ امدادی پروگرام طے کیا گیا ہے۔ حکومتی عہدیدار ابھی تک 
مستحق افراد کی نشان دہی اور ان تک رسائی کے تصورات میں گم ہیں۔ آ جا کے سب کی نظریں آن لائن درخواستوں اور موبائل ایپلی کیشنز پر ٹکتی ہیں، مگر کوئی یہ نہیں دیکھ رہا ہے کہ سوسائٹی کے جس حصے کے لیے چار سے چھ ہزار گزارہ الاؤنس کا معاملہ زیر بحث ہے ان کی غالب اکثریت تو اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناواقف ہے۔ چنانچہ موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے امدادی پیکیج کی تقسیم کا منصوبہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا نیز اس کی شفافیت پر بھی سوال کھڑے ہوسکتے ہیں۔ موبائل ایپلی کیشنز یا آن لائن درخواست کے ذریعے دیہاڑی دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنا مشکل ہی نہیں، شاید ناممکن بھی ہے۔ حکومت ضلعی انتظامیہ کی مدد سے دیہاڑی دار طبقے کی رجسٹریشن کرسکتی تھی مگر اس کے لیے بھی لاک ڈاؤن سے بہت پہلے کام شروع کرنے کی ضرورت تھی۔ دوسری جانب رضاکاروں کی بھرتی کا عمل بھی سست روی کا شکار ہے۔ کورونا وائرس کے خلاف اقدامات وقت کے مقابل دوڑ کے مترادف ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑے گا کہ بعض حوالوں سے ہم اس دوڑ میں وقت سے بہت پیچھے جارہے ہیں۔ رضاکاروں کی اس وقت اشد ضرورت تھی جب دیہاڑی دار افراد بے روزگار ہوکر گھروں میں بیٹھے تھے۔ ان کی تشویش بڑھتی جارہی ہے جبکہ حکومتی امداد کی ابھی تک کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ ایسے مواقع پر اگر رضا کار نفری موجود ہوتی تو انہیں ان ضرورت مندوں کو امداد اور کھانا مہیا کرنے کے لیے بروئے کارلایا جاسکتا تھا۔ اب جبکہ صورتحال سنجیدہ تر ہوتی جارہی ہے اور ابھی کرنے کو بہت سے کام پڑے ہیں، رضاکارانہ بھرتی کا عمل اگر شروع بھی کردیا جاتا ہے تو یقینا اس پر کئی دن لگیں گے اس کے بعد ہی انہیں ان کی ذمہ داریاں سونپی جاسکیں گی۔ یہ کام مکمل ہونے میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں اور اس وقت تک ملک میں وبا کی کیا صورت ہوگی؟ کون جانتا ہے اور وبا کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے لوگ کیونکر گزارا کریں گے؟ یہ حیرت کا باعث ہے کہ اس صورتحال میں حکومت سیاسی رہنماؤں کو ان کی پوری استطاعت کے مطابق بروئے کار نہیں لارہی، حالانکہ یہ دن انہی سے مدد طلب کرنے کے ہیں۔ 
لیجئے صا حب، با ت کہیں سے کہیں نکل گئی۔مگر کہیں ایسی بے محل بھی نہیں گئی۔ انفرا دی قر با نی، جس سے میں نے بات شر وع کی تھی، اس سے آ گے بڑھ کر یہ اجتما عی قر با نی تک جا پہنچی۔چلئے اب انفرا دی قر با نی کی جا نب پلٹتے ہیں۔اپنی عاقبت ہی نہیں، اپنی دنیا سنو ارنے کے لئے بھی ہمیں ربِ دو جہا ں کے ا و لو لعزم پیغمبر حضر ت ابرا ہیم کے جذبہِ قر با نی سے سبق حا صل کر نا ہو گا۔آ ج ہم اپنے کھا نے کی میز پہ افطا ری کے بے شما ر لو ا ز ما ت سجا تے وقت یہ دیکھنا بھول جا تے ہیں کہ ہما را ہمسا یہ کس حا ل میں ہے۔ ہم کسی یتیم کی آ وا ز پر اپنے دل میں کسی قسم کا درد محسو س نہیں کرتے۔قر با نی کا جذ بہ تو کہتا ہے کہ اپنی تما م تر افطا ری یتیمو ں کے حوا لے کر کے خو د نمک سے افطا ر کر لیا جا ئے۔ یتیموں کی موجودگی میں اپنے بچوں کو زیادہ پیار نہ کریں۔ کسی بیوہ کو یہ زحمت ہی نہ دیں کہ وہ دستِ طلب آگے بڑھائے۔ اسکی مالی امداد اس کو اس کی مجبوری کا احساس دلائے بنا اس تک پہنچائیں۔ مگر نہیں صاحب نہیں، ہم یہ سب کرتے ہیں اس سے ووٹ مانگنے کے لئے، اس سے اپنے کسی مقدمے میں اپنے حق میں گواہی دلوانے کے لئے۔ یہاں تک کہ اس سے تعلقات استوار کرنے کے لئے۔