اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان کے توانائی کے مستقبل کو محفوظ اور پائیدار بنانے کے لیے اختراع، ڈیجیٹل حل اور مقامی ٹیکنالوجی کا امتزاج ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈیٹا پر مبنی، اصلاحاتی توانائی کی تبدیلی کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نظام میں شفافیت، استعداد اور مالی بچت ممکن ہوئی ہے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ غیر مؤثر پاور پلانٹس بند کر کے ہم نے مالی گنجائش پیدا کی ہے، جب کہ مختلف توانائی کمپنیاں گرڈ سسٹم کی جدت اور شفافیت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اہداف واضح ہیں اور ان کے حصول کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
اویس لغاری نے بتایا کہ ملک بھر میں قابل تجدید توانائی کے منصوبے تیزی سے لگائے جا رہے ہیں، اور سمارٹ میٹرز و ٹرانسفارمر مانیٹرنگ سسٹمز کی مدد سے توانائی کا ضیاع کم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اختراع کو فروغ دینے اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کو سہولت دینے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے 2030 تک 60 فیصد توانائی تجدیدی ذرائع سے حاصل کرنے کے ہدف کو دوہرایا اور کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور خلیجی ممالک کے درمیان قدرتی توانائی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اویس لغاری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان علاقائی توانائی روابط کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔