تہران:ایران نے امریکا اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے مشترکہ اعلامیے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “مداخلت پر مبنی، غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز” قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ خلیج میں امریکی فوجی موجودگی ہی خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور تقسیم کی بنیادی وجہ ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مشترکہ اعلامیے میں اختیار کیے گئے مؤقف ایران کے لیے ناقابل قبول ہیں اور ایسے بیانات خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
بیان میں آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایران نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کا انتظام عمان کے ساتھ باہمی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ہونا چاہیے، جو امریکا کے ساتھ طے شدہ اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔
دوسری جانب بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ہونے والے امریکا اور جی سی سی کے وزارتی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلا رکھنے پر زور دیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اس اہم بحری راستے میں آزاد، بلاشرط اور بلا رکاوٹ جہاز رانی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے، جبکہ کسی بھی قسم کے ٹول، فیس یا کنٹرول نافذ کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا گیا۔
اعلامیے میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ کشیدگی کے مستقل خاتمے کے لیے سفارتی عمل کو تیز رفتاری اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہے۔ ساتھ ہی اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مشترکہ بیان میں عمان اور عالمی بحری تنظیم کی جانب سے خطے میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے انخلا کے منصوبے کو سراہا گیا، جبکہ 17 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔ اس عمل میں پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کو بھی قابلِ قدر قرار دیا گیا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایران کے میزائل پروگرام، ڈرون صلاحیت اور پراکسی گروہوں کی حمایت جیسے معاملات کا حل ضروری ہے۔ اس کے علاوہ واضح کیا گیا کہ ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کا مستقبل اس بات سے مشروط ہوگا کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرے اور ایسے اقدامات ترک کرے جنہیں خطے کے استحکام کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
وزارتی اجلاس کے اعلامیے میں شام میں ایک پرامن، خودمختار اور مستحکم ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا، لبنان کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو سراہا گیا، جبکہ غزہ کے حوالے سے کہا گیا کہ کسی بھی شہری کو زبردستی اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
اعلامیے میں عراق میں خلیجی ممالک کے خلاف مبینہ ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بغداد حکومت کی اس کوشش کی حمایت بھی کی گئی کہ اسلحہ صرف ریاستی اداروں کے کنٹرول میں رہے اور غیر ریاستی مسلح گروہ ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بنیں۔